Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 263|Reply: 0

بھارت: ماں اور نانی نے 14 سالہ بچے کو زہر دیکر خودکشی کرلی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194083
Post time 2025-12-9 03:33:13 | Show all posts |Read mode
  فوٹو: بھارتی میڈیا  

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں ماں اور نانی نے 14 سالہ بچے کو زہر دیکر خودکشی کرلی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلورو کے تاوری کیرے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ماں اور نانی نے مبینہ طور پر 14 سالہ لڑکے کو زہر دے کر خود بھی جان دے دی۔

ہلاک ہونے والوں  میں 14 سالہ مونیش، اس کی 38 سالہ والدہ سدھا اور 68 سالہ نانی مداما شامل ہیں۔ ابتدائی شبہ ہے کہ دونوں خواتین نے پہلے بچے کو زہر دیا اور پھر خود بھی اسی زہر کا استعمال کیا۔   
بھارت: سسرالیوں کے مظالم کی شکار خاتون نے شادی کے 6 ماہ بعد ہی خودکشی کرلی

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے نیہا کے شوہر اور اس کے خاندان کے چار افراد کو گرفتار کر لیا۔   

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ خاندان شدید مالی دباؤ اور قرض میں ڈوبا ہوا تھا، جس کے سبب انہوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔

سدھا اور مداما قبل ازیں ایک چھوٹا ہوٹل چلاتی تھیں جہاں بریانی فروخت کرتی تھیں، مگر نقصان کے بعد انہوں نے چپس اور دودھ فروخت کرنا شروع کیا اور پھر گھریلو ملازمتیں کرنے لگیں۔ معاشی حالات مسلسل بگڑتے گئے۔   
بھارت: استاد کے تشدد اور ہراسانی سے تنگ آکر 17 سالہ طالبہ نے خودکشی کرلی

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 16 نومبر کو پیش آیا، طالبہ اپنے گھر پر مردہ حالت میں ملی اور اس کی نوٹ بک میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیغام ملا۔   

رپورٹ کے مطابق  متاثرہ خاندان کا تعلق تامل ناڈو سے ہے اور وہ ایک روز قبل دھرم پوری کے ایک مندر سے واپس آئے تھے، 14 سالہ مونیش کرسٹ اسکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ سدھا کئی سال قبل اپنے شوہر سے الگ ہو چکی تھیں اور بیٹے کے ہمراہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھیں۔

پڑوسیوں نے گھر میں بے ہوش افراد دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے  موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 11:46 GMT+5 , Processed in 0.046913 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list