Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 872|Reply: 0

رواں سال سب سے زیادہ صحافی کس ملک میں قتل ہوئے؟

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194008
Post time 2025-12-12 19:57:20 | Show all posts |Read mode
  
— فائل فوٹو

میڈیا کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں میں تقریباً نصف کی موت کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024ء سے دسمبر 2025ء تک 12 مہینوں کے دوران اسرائیل صحافیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں67 صحافی مارے گئے جبکہ گزشتہ سال صحافیوں کے قتل کی تعداد 66 تھی۔  

رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج نے 29 فلسطینی صحافیوں کو قتل کیا جو کہ اس سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں کے مجموعی اعداد و شمار کا 43 فیصد بنتا ہے۔   
عالمی اداروں کا افغان طالبان رجیم سے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ

عالمی اداروں کی جانب سے افغان طالبان رجیم کے دوران افغان صحافیوں پر تشدد اور ان کی گرفتاریوں پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔    

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال سب سے خوفناک حملہ 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال پر کیا گیا جس میں 5 صحافی جاں بحق ہوئے، ہلاک ہونے والے صحافیوں میں 2 بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے معاون رپورٹر بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں اکتوبر 2023ء میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے آغاز سے اب تک تقریباً 220 صحافی مارے جا چکے ہیں اور یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا ’صحافی قاتل‘ ملک قرار پایا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میکسیکو 2025ء میں صحافیوں کے لیے گزشتہ 3 برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ خطرناک سال ثابت ہوا کیونکہ اس سال وہاں 9 صحافی ہلاک ہوئے، یوکرین میں 3 جبکہ خانہ جنگی سے تباہ شدہ سوڈان میں 4 صحافی قتل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر 2025ء تک 47 ممالک میں 503 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 08:32 GMT+5 , Processed in 0.043914 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list