Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 586|Reply: 0

بھارت حجاب تنازع: بی جے پی کی مذہبی منافرت، نتیش کمار کی حمایت میں ایک اور وزیر سامنے آگئے

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193993
Post time 2025-12-18 19:36:30 | Show all posts |Read mode
  — فائل فوٹو

مسلمانوں کے خلاف بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی مذہبی منافرت اُبھر کر سامنے آنے لگی، خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر  یوپی کے وزیر سنجے نشاد کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حمایت میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ بھی میدان میں آگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت کے وزیر گری راج سنگھ نے نتیش کمار کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غلط کیا ہے؟  

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تقرری نامہ لینے آیا ہے تو اُسے اپنا چہرہ دکھانے میں کیسا خوف؟ جب آپ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو کیا اپنا چہرہ نہیں دکھاتے؟    
بھارت حجاب تنازع، وزیراعلیٰ کے دفاع میں ایک وزیر کا متاثرہ خاتون کیلئے ہتک آمیز بیان آگیا

اتر پردیش کے وزیر سنجے نشاد خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے دفاع میں سامنے آگئے۔   

واضح رہے کہ 16 دسممبر کو 12 سو سے زائد ڈاکٹروں کو تقریری نامہ تقسیم کیا گیا۔  

نتیش کمار اس تقریب کے دوران تقریری نامہ وصول کرنے کے لیے آنے والوں سے گفتگو کرتے دکھائی دیئے۔  

متاثرہ نقاب پوش خاتون سے بھی انہوں گفتگو کی اور پھر ان کا نقاب کھینج دیا، اس موقع پر ساتھ موجود نائب وزیراعلیٰ سمرت چوہدری نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

اس واقعے پر بھارت میں جہاں مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے وہیں حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما وزیراعلیٰ بہارنتیش کمار کے دفاع میں یکے بعد دیگرے سامنے آ رہے ہیں۔

دریں اثنا اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر زما خان نے کہا کہ نتیش جی نے صرف ایک مسلم بیٹی سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ زندگی میں کامیاب ہو جائے تو سماج اُس کا چہرہ دیکھے۔

تاہم مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے مرکزی وزیر کے اس بیان کو ناقابلِ قبول قرار دیا جارہا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 05:16 GMT+5 , Processed in 0.047002 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list