Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 418|Reply: 0

’براہ کرم شہرت کیلئے کسی اور کو ڈھونڈیں‘ پولیس یونیفارم تنازع پر صبا قمر کا دوٹوک مؤقف

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193975
Post time 2025-12-28 16:03:52 | Show all posts |Read mode
  
— فائل فوٹو

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ اداکارہ صبا قمر نے اپنا نام استعمال کر کے سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا۔

حالیہ دنوں میں صبا قمر کے خلاف پولیس یونیفارم بغیر اجازت پہننے پر مقدمہ درج کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر اداکارہ نے بالآخر اپنا دوٹوک مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔

فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر انہوں نے اسٹوری شیئر کرتے ہوئے اس خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔   

اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئی درخواست بھی شیئر کی، جو 31 ستمبر 2021 کو لاہور آپریشنز کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے نام لکھی گئی تھی۔  

اس درخواست میں ’پاکستان کی امیج کی بہتری کے مقصد سے ڈی جی پی آر پنجاب پروجیکٹ‘ کے لیے پولیس یونیفارم خریدنے اور استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

صبا قمر نے اس پٹیشن کو شہرت کا استعمال کرتے ہوئے ’پبلسٹی‘ کا ذریعہ قرار دیا، اور ناقدین سے کہا کہ ’براہ کرم شہرت کے لیے کسی اور کو ڈھونڈیں‘۔   
صبا قمر کا اپنے خلاف مقدمے کی درخواست پر طنزیہ ردِعمل

صبا قمر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے   

اداکارہ نے کہا کہ ’آج میرے پاس جو کچھ ہے وہ محنت کا نتیجہ ہے۔

ناقدین کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’اپنے سفر پر توجہ مرکوز رکھیں، کیونکہ آپ کا وقت آئے گا‘۔

واضح رہے کہ صبا قمر کا یہ ردعمل اس درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جو لاہور کی مقامی عدالت میں دائر کی گئی تھی۔  

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اداکارہ نے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر پولیس یونیفارم پہنا، جو سرکاری یونیفارم کے استعمال سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

درخواست گزار وسیم زوار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس ویڈیو میں صبا قمر ایک ڈریسنگ روم میں پولیس کی وردی پہن کر ایس پی رینک کا بیج لگا کر نظر آ رہی ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ پولیس یونیفارم پہننے کے لیے متعلقہ پولیس حکام سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ضروری ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس سے قبل اولڈ انار کلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی گئی تھی، تاہم اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 01:50 GMT+5 , Processed in 0.046474 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list