Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 30|Reply: 0

ہمارا ڈرامہ چار دیواری سے باہر نکل ہی نہیں سکتا: یاسر حسین

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193990
Post time 2025-12-29 20:01:18 | Show all posts |Read mode
  
— فائل فوٹو

پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار، ہدایتکار، مصنف اور پروڈیوسر یاسر حسین نے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کہانیوں کے فقدان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا ڈرامہ چار دیواری سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔

حال ہی میں کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے پاکستانی ڈامہ اور فلم انڈسٹری میں کہانیوں کی محدودیت پر کھل کر بات کی۔  

ان کا کہنا تھا کہ سیرل اور سیریز اب نیٹ فلکس اور ایمازون پر نشر کی جا رہی ہیں، ہمارے یہاں اب بھی یہ فارمیٹ ٹی وی میں رائج ہے، مگر آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر جو کہانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ویسی ہمارے یہاں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم کہانیوں کے اعتبار سے بہت پیچھے ہیں، ہمیں کہانی پیش کرنے کے لیے میاں بیوی یا آشنا کے کرداروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔  

یاسر حسین نے کہا کہ فن کسی بھی صورت میں ہو وہ معاشرے کی ذہن سازی کرتا ہے۔ جب ذہن سازی پر پابندیاں عائد کر دی جائیں، تو کہانیاں گھر کی چار دیواروں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ہمارا ڈرامہ بھی گھریلو کہانیوں سے آگے جا ہی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی چیزوں پر اب باہر والے ڈرامے اور فلمیں بنا رہے ہیں کیونکہ وہ بہت بڑی چیزیں ہیں۔ حال ہی میں بھارتی فلم دھریندر آئی ہے، جو کراچی کے علاقے لیاری کی ایک کہانی پر مبنی ہے لیکن ہم یہاں رہتے ہوئے بھی نہیں جاتنے کہ لیاری میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے، میں خود بھی نہیں جانتا کیونکہ مجھے کبھی وہاں جانے ہی نہیں دیا گیا۔    
یاسر حسین کی نادیہ خان کے ساتھ ہونے والے تنازعے پر لب کشائی

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار، ہدایتکار، مصنف اور پروڈیوسر یاسر حسین نے ساتھی اداکارہ و میزبان نادیہ خان کے ساتھ ہونے والے تنازعہ پر لب کشائی کر دی۔   

انہوں نے کہا کہ لیاری میں پوری فوڈ اسٹریٹ ہے جو ہم اسی شہر میں رہتے ہوئے کبھی دیکھ ہی نہیں پائے۔ صرف لیاری ہی نہیں بلکہ اسی شہر میں کئی ایسے علاقے ہیں جن پر ہم نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا، تو وہاں کی کہانیاں کیسے پیش کی جائیں گی؟

اداکار کے مطابق اس سے قبل ’ہیرامنڈی‘ پر فلم بنائی گئی تھی وہ ہماری کہانی ہے، ہم یہ شکوہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے صحیح بنائی یا غلط۔ جاوید اقبال کو لے کر بھارت میں فلم بنی لیکن جب ہمارے پاس اسی عنوان پر فلم بنی تو اسے بین کر دیا گیا۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ہمیں محدود کہانیاں پیش کرنے کا حق ہے اور اس میں ہمارے ہدایت کار جو کر رہے ہیں وہ بہت اچھا کر رہے ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 03:15 GMT+5 , Processed in 0.047710 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list