ہر سال جنوری میں وزن کم کرنے کے لیے سخت اور مشکل ڈائٹ پلانز کو اپنانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار اور صحت مند انداز میں وزن کم کرنے کے لیے خود پر زیادہ پابندیاں لگانا ضروری نہیں۔ اصل ضرورت ایسی روزمرہ روٹین بنانے کی ہے جو عام زندگی کے مطابق ہو اور طویل عرصے تک برقرار رکھی جا سکے۔
ماہرین صحت کے مطابق متوازن غذا وزن کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ روزانہ کی پلیٹ میں آدھی مقدار سبزیوں پر، ایک چوتھائی پروٹین (جیسے دال، انڈے، چکن یا پنیر) اور ایک چوتھائی مکمل اناج یا کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہونی چاہیے۔
اس طریقے سے بھوک قابو میں رہتی ہے اور غیر ضروری کھانے سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
غذائی و طبی ماہرین کی جانب سے غذا کم کرنے کے بجائے پروٹین اور فائبر بڑھانے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ یہی چیزیں جسم کو دیر تک توانائی دیتی ہیں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی خواہش کو کم کرتی ہیں۔
صحت آپکی امید سے زیادہ بہتر ہونے سے متعلق بتانے والی 7 حیران کن علامات
اکثر افراد اپنی صحت سے متعلق منفی سوچ رکھتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بیماری سمجھ لیتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم خود ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کتنے صحت مند ہیں۔
ناشتے میں پروٹین شامل کرنے اور رات کے کھانے کو ہلکا اور کم رکھنے سے بے جا اسنیکنگ سے بچا جا سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ کھانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صحت مند متبادل اپنائے جائیں۔ مثال کے طور پر تلی ہوئی چیزوں کی جگہ بھنے ہوئے اسنیکس اور میٹھی چائے میں آہستہ آہستہ چینی کم کی جائے۔
روزمرہ مصروف زندگی کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کو اہم قرار دیا گیا ہے، جیسے آسان اور فوری کھانے کے آپشنز تیار رکھنا، فریز میں صحت مند غذا محفوظ کرنا اور ایک وقت میں زیادہ پکا کر اگلے دن کے لیے رکھنا تاکہ بھوک لگنے کے وقت صحت کے لیے مفید کھانا دستیاب ہو۔
وزن بڑھنے کی بڑی وجہ بے دھیانی میں زیادہ کھانا بھی ہے جس سے بچنے کے لیے چھوٹی پلیٹیں استعمال کرنے، اسنیکس کو نظروں، کچن اور فریج سے دور رکھنے اور دوسری بار پلیٹ بھرنے سے پہلے چند سیکنڈ رکنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹھا یا پسندیدہ کھانا مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے ہفتے میں ایک مقررہ دن تک محدود کیا جائے تاکہ کھانے کی بے قابو خواہش سے بچا جا سکے۔
حد سے زیادہ کھانا جسم ہی نہیں دماغ کیلئے بھی نقصان کا باعث
تہواروں سمیت مختلف مواقع پر حد سے زیادہ کھانا پینا انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے، زیادہ کھانے کی وجہ سے دماغ اور جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی مختلف علامات بھی ہوتی ہیں۔
ماہرین کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایک ساتھ کئی تبدیلیاں کرنے کے بجائے صرف دو آسان عادتیں اپنائی جائیں جیسے کہ روزانہ پروٹین والا ناشتہ یا مناسب مقدار میں پانی پینا۔ اگر کبھی معمول ٹوٹ جائے تو اسے ناکامی کے بجائے سیکھنے کا موقع سمجھا جائے۔
ماہرین کے مطابق اصل کامیابی خود پر سختی نہیں بلکہ اپنے ارد گرد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں صحت مند انتخاب خود بخود آسان ہو جائے۔
یہی مؤثر اور آسان طریقہ وزن کم کرنے کو دیرپا اور قابلِ عمل بناتا ہے۔