بنگلادیش طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے بنگلادیش پہنچا دی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عثمان ہادی کے تابوت کو بنگلادیشی پرچم میں لپیٹ کر لایا گیا۔
عثمان ہادی کی میت لے کر آنے والی پرواز مقامی وقت کے مطابق 5 بج کر 48 منٹ پر ڈھاکا کے ایئر پورٹ پر لینڈ ہوئی۔
ڈھاکا: انگریزی اخبار کے دفتر کو مظاہرین نے آگ لگا دی، عملہ کئی گھنٹوں تک محصور رہا
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شیخ حسینہ کے خلاف چلنے والی 2024 کی جولائی تحریک کے نمایاں رہنما شریف عثمان ہادی کی سنگاپور میں علاج کے دوران موت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔
عثمان ہادی گزشتہ جمعے نامعلوم ملزمان کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سنگاپور کے اسپتال میں دم توڑ گئے تھے، جس کے بعد بنگلادیش میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بنگلادیش طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سربراہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن وولکر ترک نے کہا ہے کہ بنگلادیشی حکام پر زور دیتے ہیں کہ واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے، عثمان ہادی کے قتل کے ذمے داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔