فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ترجمان ابوعبیدہ کی شہادت کی تصدیق کردی۔
فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ اور غزہ میں تنظیم کے سربراہ محمد سنوار رواں برس اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران شہید ہو گئے۔
یحییٰ سنوار کی غزہ میں لڑنے اور اسرائیلی فوج کے ٹینک کے قریب ہونے کی نئی ویڈیو جاری
شہید یحییٰ سنوار کی وہ نادر ویڈیوز بھی دکھائی گئی ہیں، جن میں وہ رفح اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی فورسز کے خلاف فوجی آپریشنز کی قیادت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج نے اگست میں غزہ میں بمباری کرکے ابوعبیدہ کو زخمی کردیا تھا اور وہ دوران علاج زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
بیان میں یہ بھی تصدیق کی گئی کہ رَفَح بریگیڈ کے سربراہ محمد شبانہ، اور تنظیم کے دو دیگر رہنما، حکام العیسیٰ اور رائد سعد بھی شہید ہوگئے ہیں۔ حماس نے ان شہادتوں کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
یحییٰ سنوار کو شہید کرنے والے اسرائیلی فوجی کی شناخت سامنے آگئی
القدس نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوجی کی شناخت ظاہر کی ہے ۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے محمد سنوار کو قتل کر دیا ہے، جو سابق حماس رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ تین ماہ بعد اسرائیل نے ابو عبیدہ کے مارے جانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے اوائل میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر میں نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے علاقے کو جنگی زون قرار دیا اور بڑے پیمانے پر رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں، جس کے باعث فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔
اسرائیلی یرغمالیوں کو شہید یحییٰ سنوار کے گھر کے باہر سے رہا کیا گیا
بڑی تعداد میں لوگ خان یونس کے اس علاقے میں جمع ہوئے، جسے اسٹریٹ 5 کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابو عبیدہ حماس کی ایک نمایاں آواز سمجھے جاتے تھے اور میدانِ جنگ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے، خصوصاً اس مختصر جنگ بندی کے دوران جسے بعد میں اسرائیل کی جانب سے ختم کر دیا گیا۔
محمد سنوار اور ابو عبیدہ ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کی شہادت کی گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے تصدیق کی ہے۔
اس فہرست میں حماس کے کئی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قائدین شامل ہیں، جن میں سابق سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار، عسکری کمانڈر محمد الضیف اور سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ شامل ہیں، جنہیں تہران میں شہید کیا گیا تھا۔