|
|
فائل فوٹو
تعصب پسند مودی حکومت کی شدت پسند سوچ نے تعلیمی اداروں کو بھی نہ بخشا، مسلمان طلبہ کی اکثریت پر مقبوضہ کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (SMVDMI) کو بند کر دیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب کالج کے پہلے ایم بی بی ایس بیچ میں مسلمان طلبہ کی اکثریت سامنے آنے پر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی نیشنل میڈیکل کمیشن نے 6 جنوری کو کالج کی منظوری یہ کہہ کر منسوخ کر دی کہ ادارہ تدریسی عملے، اسپتال کی سہولتیں، مریضوں کی تعداد اور دیگر بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتا اور اگلے ہی دن کالج کو جاری کیا گیا اجازت نامہ بھی واپس لے لیا۔
کالج کے پہلے بیچ میں شامل 50 طلبہ میں سے 42 مسلمان، 7 ہندو اور ایک سکھ تھا۔ داخلے ملک گیر مسابقتی امتحان نیٹ کے ذریعے ہوئے تھے جو مذہب سے بالاتر نظام کے تحت منعقد ہوتا ہے۔
تعصب اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کا مسلمان طالبِ علموں کی اکثریت سے متعلق کہنا تھا کہ چونکہ یہ کالج ماتا ویشنو دیوی مندر ٹرسٹ سے منسلک ہے اس لیے یہاں مسلمانوں کا داخلہ ’نامناسب عمل‘ ہے۔
مظاہرین نے کئی ہفتوں تک کالج کے باہر احتجاج کے ذریعے کالج بند کرنے کا مطالبہ کیا اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالا۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللّٰہ نے اعلان کیا کہ متاثرہ 50 طلبہ کو خطے کے دیگر میڈیکل کالجز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔
اُنہوں نے کالج بند کرنے کی مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔
طلبہ تنظیموں نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ تعلیم کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا خطرناک رجحان ہے، ’طلبا نے میرٹ پر سیٹ حاصل کی تھی لیکن انکی محنت کو ہمارے مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے۔‘ |
|