جہاز میں سیٹس کھڑکیوں کے بالکل سامنے نہیں ہوتیں اور عموماََ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سیٹوں کی یہ ترتیب مسافروں کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہاز میں کھڑکیاں اس کی ساخت کے مطابق بنائی جاتی ہیں اور اونچائی پر دباؤ کی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کے لیے جہاز کو جتنی مضبوطی درکار ہوتی ہے اسی حساب سے اس کی تمام سیٹس کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا ہے۔
جہاز ساز کمپنیوں کا مقصد ایک معیاری سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی حفاظت سے سمجھوتہ کیے بغیر اپنی آمدنی کو بڑھانا بھی ہے۔
ہوائی جہاز اپنے پیچھے یہ سفید لکیریں کیوں چھوڑ جاتے ہیں؟
جہاز کے گزر جانے کے بعد اس کے پیچھے آسمان پر سفید لکیریں دیکھ کر یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آیا ہوگا کہ آخر یہ لکیریں کیوں اور کیسے بنتی ہیں؟
جہاز کی سیٹس کو کھڑکیوں کی سیدھ میں لانے سے اس میں زیادہ سیٹیں لگانا مشکل ہوگا اور حفاظتی معیار کی وجہ سے طیارہ ساز کمپنیوں کی آمدنی میں کمی آئے گی۔ اسی لیے کمپنیوں نے جہاز میں سیٹس لگانے کے لیے اپنا ایک معیاری طریقے کار بنایا ہوا ہے اور جہاز میں سیٹس ہمیشہ اسی طریقے کار کے حساب سے لگاتی ہیں۔
تمام ہوائی جہازوں کے ڈیزائن اور ان میں کھڑکیوں کی پوزیشن مختلف ہوتی ہے، ہر جہاز کے ڈیزائن اور اس کی کھڑکیوں کی پوزیشن کے حساب سے ان کی سیدھ میں سیٹیں لگانے سے جہاز ساز کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
اس لیے جہاز میں سیٹیں لگانے کا معیاری طریقہ کار اور جہاز میں کھڑکیوں کی پوزیشن، دونوں شاذ و نادر ہی مماثل ہوتے ہیں۔