اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی و ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازا کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔
علی خورشیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازا کا جو سانحہ ہوا اور اس کے نقصانات آپ کے سامنے ہیں، اس واقعے کو دو دن ہو چکے ہیں اس آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
اُنہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں یہ بتایا گیا کہ عام شہری کتنے خوشحال ہے، اسلام آباد میں جو تصویر پیش کی گئی وہ خیالی تصویر تھی، 17 سال کے اقتدار میں 17 بوند پانی نہیں دیا گیا، 17 سال کے اقتدار میں 17 اسپتال نہیں دیے گئے۔
رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے مزید کہا کہ آپ کی ساری بریفنگ جل کر خاک ہو گئی انہیں اپنا بنایا نظام زیادہ عزیز ہے یا انسانی جانیں، اس نظام کو سپورٹ کرنے والی جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی برابر کی شریک ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے پاس نہ اختیارات ہیں نہ وسائل، صوبائی حکومت نے تمام وسائل اور اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، ان کی 17 سال کی حکومت بے نقاب ہوچکی ہے۔
علی خورشیدی نے سوال کیا کہ یہ حادثات کیوں نہیں رک پا رہے، یہ اے سی، ڈی سی علاقوں میں گھومتے ہیں، یہ کمیشن دے کر آتے ہیں اور زندگی بھر کمیشن کھاتے رہتے ہیں، صوبائی حکومت کا پورا بجٹ اس شہر سے چلتا ہے، صوبائی حکومت ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔
کراچی میں گل پلازا سانحے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 73 ہو گئی
70 لاپتہ افراد کا اندراج ہوا تھا، آج مزید 3 افراد کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیے ہیں: ہیلپ ڈیسک سندھ حکومت
اُنہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سانحہ گل پلازا کی انکوائری کا مطالبہ کریں گے، کوئی ایک ایسا محکمہ بتا دیں جس پر صوبائی حکومت فخر کر سکے، پریزینٹیشن میں سب اچھا دکھایا جاتا ہے، اس شہر پر وفاقی حکومت کی بھی ذمے داری بنتی ہے۔
رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ صوبائی حکومت گل پلازا کے متاثرین کو معاوضہ دے، فائر سیفٹی اور سول ڈیفنس، لیبر ڈپارٹمنٹ کیا کر رہا ہے، میونسپل کمشنر نے بتایا تھا کہ ہم سیفٹی آڈٹ کر رہے ہیں، بلدیاتی نظام عوام کا جانی و مالی تحفظ نہیں کر پا رہا، حادثہ ہوئے دو دن ہوگئے ایم اے جناح روڈ کا برا حال ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کل جب حکمران جماعت کے لوگ گئے تو عوام نے ان کے ساتھ کیا کیا سب کے سامنے ہے، یہاں عمارتیں بنانے اور سیفٹی آڈٹ کے ریٹ طے ہوئے ہیں، خدارا موجودہ بلدیاتی نظام پر سب مل بیٹھ کر بات کریں۔