|
|
عالمی شہرت یافتہ موسیقار اے آر رحمان اپنی دونوں بیٹیوں اور ملیالم موسیقار کیلاس مینن کے ساتھ(تصویر سوشل میڈیا)۔
عالمی شہرت یافتہ بھارتی موسیقار، گلوکار، گیت نگار اور ریکارڈ پروڈیوسر اے آر رحمان کی بیٹیوں رحیمہ اور خدیجہ نے مذہبی تعصب برتے جانے کے اپنے والد کے بیان کے بعد ان پر ہونے والی تنقید کے جواب میں پوسٹ شیئر کی ہے۔
واضح رہے کہ آسکر ایوارڈ یافتہ گلوکار اور موسیقار اے آر رحمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں انھیں ہندی فلم انڈسٹری میں کام ملنا بہت کم ہوگیا ہے اور اس کی وجہ فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں تبدیلی ہے اور یہ عناصر ان کے ساتھ مذہبی تعصب کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ انڈسٹری کا پاور اسٹرکچر اور تخلیقی کنٹرول تخلیقی لوگوں سے دور ہوگیا ہے۔
59 سالہ اے آر رحمان کے اس تبصرے نے آن لائن اور انٹرٹینمنٹ حلقوں میں ایک بحث چھیڑ دی۔ نقادوں نے ان کے تبصرے کی بنیاد پر سوالات اٹھائے۔ جس کے بعد اے آر رحمان نے اسکی وضاحت کی اور کہا کہ انکی بات کو غلط سمجھا گیا اور وہ کسی کی بھی دل آزاری نہیں چاہتے۔
رحیمہ اور خدیجہ نے پیر کے روز ملیالم فلموں کے موسیقار کیلاس مینن کی ایک پوسٹ شیئر کی جس میں کیلاس نے کہا کہ لوگ اے آر رحمان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن انہیں اپنے تجربے کے اظہار کی آزادی سے انکار نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے
- بین الاقوامی معیار کی فلم کے لیے اے آر رحمان سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے، لکشمن اوتیکر
- کنگنا رناوت نے اے آر رحمان سے متعلق نیا تنازع چھیڑ دیا
- اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث چھیڑ دی
- جو لوگ تخلیقی نہیں، اب ان کے پاس طاقت ہے، اے آر رحمان
آپ ان سے متفق نہ ہوں لیکن توہین تو نہ کریں۔ وہ لوگ جو اے آر رحمان کو اس لیے الزام دے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی، وہ ایک بنیادی نکتہ سمجھنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے صرف یہ بیان کیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ آپ ان سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن آپ ان سے اظہار رائے کی آزادی تو نہیں چھین سکتے۔ تاہم اس کے بعد جو ہوا وہ محض اختلاف رائے سے کافی آگے ہے اور بدسلوکی و کردار کشی کی حد تک جا پہنچا ہے۔
کیلاس مینن نے اے آر رحمان کو ایک ایسے شخص کے طور پر سراہا جس نے بھارتی موسیقی کو دنیا تک پہنچایا، ملک کی نمائندگی وقار کے ساتھ کی اور اپنے کام کے ذریعے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
ایک عالمی شہرت یافتہ فنکار کی توہین، ان کے مذہب پر سوال اٹھانا، حالیہ کاموں کا مذاق اڑانا، اور اان کے تجربات کو صرف وکٹم کارڈ تک محدود کرنا تنقید نہیں بلکہ نفرت انگیز تقریر ہے۔ |
|