|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
انگلینڈ کے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے طویل انتظار ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے تازہ تجزیے کے مطابق حکومت کی جانب سے زیرِ التوا علاج ختم کرنے کے منصوبے کے ایک سال بعد بھی ملک کے تقریباً ایک چوتھائی اسپتالوں میں مریضوں کے انتظار کا وقت مزید بڑھ گیا ہے، جس سے صحت کے نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 129 اسپتال سروسز میں سے 31 اسپتال ٹرسٹس کی صورتحال پہلے سے بدتر ہو چکی ہے، جبکہ مزید 17 اسپتالوں میں معمولی یا نہ ہونے کے برابر بہتری دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر قومی سطح پر کچھ پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم متعدد علاقوں میں مریض بدستور بروقت علاج سے محروم ہیں۔
حکومت کا ہدف گھٹنے اور کولہے کے آپریشن سمیت دیگر اہم علاج کے لیے 18 ہفتوں کے اندر مریضوں کو سہولت فراہم کرنا تھا، جو لیبر پارٹی کے صحت سے متعلق انتخابی وعدوں میں شامل تھا۔ گزشتہ سال جنوری کے دوران اس مقصد کے حصول کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی پیش کیا گیا، تاہم عملی سطح پر نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں طبی عملے کی شدید کمی، ڈاکٹروں کی ہڑتالیں اور آئی ٹی نظام میں خرابی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل کے باعث آپریشن منسوخ ہونا اور مریضوں کی فہرستوں کا مزید طویل ہو جانا معمول بنتا جا رہا ہے۔
بلیک پول کی رہائشی 72 سالہ میری واٹر ہاؤس ان ہزاروں مریضوں کی ایک واضح مثال ہیں جو اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ 2022 سے گٹھیا کے علاج کے لیے بلیک پول ہاسپٹلز این ایچ ایس ٹرسٹ سے رجوع کر رہی ہیں، مگر حالت بگڑنے کے باوجود انہیں آٹھ ماہ تک معائنے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اب انہیں دونوں کولہوں اور گھٹنوں کی تبدیلی کے آپریشن کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انتظار کا یہ بحران نہ صرف مریضوں کی صحت بلکہ پورے صحت کے نظام پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرے۔ |
|