|
|
---فائل فوٹو
جرمنی نے یورپ کی سب سے مضبوط اور روایتی فوج بنانے کی تیاری تیز کر دی ہے۔ جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ روس سے بڑھتے خطرات اور امریکا پر اعتماد میں کمی کے باعث یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیت خود مضبوط کرنا ہوگی۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جرمنی کے ایک نئے قانون کے تحت ہر 18 سالہ جرمن نوجوانوں کے لیے فوجی سروس سے متعلق اپنی جسمانی اور ذہنی اہلیت کا سوالنامہ بھرنا لازمی ہوگا۔ فی الحال جرمنی میں فوج میں شمولیت رضاکارانہ ہے تاہم ضرورت پڑنے پر لازمی فوجی سروس بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس کے مطابق جرمن فوج ’بنڈس ویئر‘ (Bundeswehr) کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج بنانا ہدف ہے۔ اس وقت فعال فوجیوں کی تعداد 1 لاکھ 84 ہزار ہے جس میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نیٹو سے کیے گئے وعدے کے مطابق 2035ء تک یہ تعداد 2 لاکھ 60 ہزار تک پہنچائی جائے گی جبکہ ریزرو فوجیوں کی تعداد بھی دوگنی کی جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ رضاکار فوجیوں کو 23 ماہ کے معاہدے پر بھرتی کیا جا رہا ہے جس میں اچھی تنخواہ، مفت رہائش اور طبی سہولتیں شامل ہیں۔ حکومت نے رواں سال دفاعی بجٹ 108 ارب یورو تک بڑھا دیا ہے جو جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ہے۔ 2030ء تک یہ اخراجات 3.5 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جرمن عوام میں روس سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق جرمنی کی بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ روس یوکرین کے بعد نیٹو ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جرمنی میں 2029ء کو ممکنہ خطرے کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے امریکا پر اعتماد میں شدید کمی آئی ہے، تازہ سرویز کے مطابق زیادہ تر جرمن شہری اب امریکا کو یورپ کی سلامتی کا قابلِ اعتماد ضامن نہیں سمجھتے۔ اسی وجہ سے یورپی سطح پر دفاعی نظام اور فرانسیسی برطانوی جوہری تحفظ کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس نے جرمنی کے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ برلن ماسکو کے ساتھ فوجی تصادم کی تیاری کر رہا ہے تاہم جرمنی کا مؤقف ہے کہ یہ سب اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں۔ |
|