Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 296|Reply: 0

ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کیا ہے؟

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
195902
Post time 2026-1-21 17:16:58 | Show all posts |Read mode
  — فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازعات کے حل کے لیے نئی عالمی تنظیم ’بورڈ آف پیس‘ کے قائم کا اعلان کردیا ہے، تاہم اس کی مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے بھاری رقم طلب کرلی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چارٹر کے مطابق ٹرمپ حکومت نے بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے ایک ارب ڈالر فیس طلب کی ہے۔  

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بورڈ ابتداً غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تصور کیا گیا تھا، تاہم دستاویز میں اس کے کردار کو صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں کیا گیا۔   
ڈونلڈ ٹرمپ کی ولادیمیر پیوٹن کو غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ میں امن، حکمرانی اور تعمیرِ نو کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔    
بورڈ کا کردار کیا ہوگا؟

چارٹر کے مطابق بورڈ آف پیس کی صدارت خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے جبکہ اسے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن کے قیام کےلیے بنایا گیا ہے۔

چارٹر میں کہا گیا کہ یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو استحکام کے فروغ، قابلِ اعتماد اور قانونی طرزِ حکمرانی کی بحالی اور تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں دیرپا امن کے قیام کی کوشش کرے گی۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ بین الاقوامی قانون کے مطابق امن سازی سے متعلق فرائض انجام دے گا۔
بورڈ کو کون چلائے گا؟

چارٹر کے مطابق ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور چیئرمین کو ذیلی ادارے قائم کرنے، ان میں ترمیم یا انہیں ختم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا تاکہ بورڈ آف پیس کے مشن کو پورا کیا جا سکے۔   
دھمکیوں کی پالیسی کے سامنے نہیں جُھکنا چاہیے: فرانس

فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ غنڈہ گردی کے مقابلے احترام کو ترجیح دیتے ہیں اور دھمکیوں کی پالیسی کے سامنےنہیں جُھکنا چاہیے۔    

ٹرمپ ایک ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا بھی انتخاب کریں گے، جو عالمی رہنما ہوں گے اور دو سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے، تاہم چیئرمین کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وقت انہیں ہٹا سکیں گے۔

چیئرمین بورڈ کی جانب سے قراردادیں یا دیگر ہدایات بھی جاری کر سکتے ہیں۔

چیئرمین کو صرف رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کی صورت میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
رکن کون بن سکتا ہے؟

رکن ممالک کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت دی جائے گی اور ان کی نمائندگی سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گی۔

چارٹر کے مطابق ہر رکن کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی۔ تاہم یہ شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو چارٹر کے نفاذ کے پہلے سال میں بورڈ آف پیس کو ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کریں گے۔   
بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے سابق صدر مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔   

بورڈ سال میں کم از کم ایک مرتبہ ووٹنگ اجلاس منعقد کرے گا اور ہر رکن ملک کو ایک ووٹ حاصل ہوگا۔

تمام فیصلے موجود اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان کی اکثریت سے ہوں گے لیکن انہیں چیئرمین کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ ٹائی کی صورت میں چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ایگزیکٹو بورڈ میں کون شامل ہے؟

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ تنظیم کے مشن کو عملی شکل دے گا۔ اس کی صدارت بھی ٹرمپ کریں گے اور اس میں سات ارکان شامل ہوں گے۔ جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی فنانسر مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ٹرمپ کے قریبی معاون رابرٹ گیبریل شامل ہوں گے۔
کن ممالک کو دعوت دی گئی؟

درجنوں ممالک اور رہنماؤں نے تصدیق کی کہ انہیں دعوت موصول ہوئی، جن میں چین، بھارت، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی شامل ہیں۔   
ڈونلڈ ٹرمپ کی فرانس کو 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی، صدر میکرون کا نجی پیغام بھی سامنے لے آئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار نہ کی تو فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔   

اس کے علاوہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے بھی دعوت کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اردن، برازیل، پیراگوئے، پاکستان سمیت یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک شامل ہیں۔
کون شامل ہوگا؟

البانیا سے ویتنام تک کئی ممالک نے بورڈ میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یورپی یونین میں ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

کینیڈا نے شرکت کی تصدیق تو کی ہے، تاہم مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، مراکش اور ویتنام جیسے دیگر مثبت جواب دینے والے ممالک یہ رقم ادا کریں گے یا نہیں۔   
ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے کی اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد واپس لینڈنگ

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون کو بجلی کے ایک چھوٹے مسئلے کے سبب واشنگٹن واپس لوٹنا پڑا۔   
کون شامل نہیں ہوگا؟

امریکا کا دیرینہ اتحادی فرانس اس بورڈ میں شامل نہیں ہوگا۔ اس اعلان کے بعد ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔

دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ ایک ہی کونسل میں شامل ہونا انتہائی مشکل ہوگا، تاہم سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
آغاز کب ہوگا؟

چارٹر کے مطابق تین ممالک کی جانب سے باضابطہ رضامندی ظاہر کیے جانے کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہوجائے گا۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-21 13:11 GMT+5 , Processed in 0.048120 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list