پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ نے تصدیق کی ہے کہ 2 دکانوں سے برآمد ہونے والی لاشوں کا ڈی این اے بھی نہیں لیا جاسکتا ہے۔
گل پلازہ میں کراکری کی دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔
سانحہ گل پلازا: 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں، پولیس سرجن کراچی
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ نے تصدیق کی ہے کہ گل پلازا آتشزدگی میں جھلسنے والی 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اب تک 2 دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں، ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے یہ بھی کہا کہ ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔
گل پلازہ کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں، تعداد 61 ہوگئی
گل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، جس کے دوران میزنائن فلور کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں۔
واضح رہے کہ کراچی کے گل پلازہ آتشزدگی میں میز نائن فلور کی ایک ہی دکان 30 لاشیں ملی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 61 ہوچکی ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے میزنائن سے 30 لاشیں ملی ہیں، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، لوگوں نے خود کو بچانے کے لیے دکان میں بند کرلیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ ان افراد کی آخری موبائل لوکشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی، اطلاع پر تیسرے فلور پر ریسکیو آپریشن وقتی طور پر روکا گیا۔ دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔