|
|
دانتوں پر جمی تہہ (پلاک) اور شریانوں میں جمی تہہ کے نام یکساں ہیں لیکن یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔
دانتوں کی پلاک منہ میں بیکٹیریا، کھانے کے ذرات اور لعاب سے بنتی ہے اور اگر بروقت صاف نہ کی جائے تو مسوڑھوں کی بیماری، دانتوں کے سڑنے اور بدبو کا سبب بنتی ہے۔
اس کے برعکس شریانوں کی پلاک خون کی نالیوں کے اندر کولیسٹرول، چکنائی، کیلشیم اور سوزش پیدا کرنے والے مادّوں سے بنتی ہے، جو وقت کے ساتھ شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین دندان ساز اور ماہرین امراض قلب برسوں سے اس معاملے میں مشاہدہ کررہے ہیں، اگرچہ دانتوں کی پلاک براہِ راست شریانوں میں منتقل نہیں ہوتی، لیکن منہ کی خراب صحت، خاص طور پر مسوڑھوں کی دائمی بیماری، جسم میں مسلسل سوزش پیدا کر سکتی ہے۔
یہی سوزش اور بیکٹیریا خون کے ذریعے دل اور شریانوں کو متاثر کرکے شریانوں کی پلاک بننے کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔
اس لیے منہ کی صفائی اور دل کی صحت ایک دوسرے سے بالواسطہ طور پر جڑی ہوئی ہیں، مجموعی طور پر دانتوں کی اچھے سے صفائی، متوازن غذا اور فعال طرزِ زندگی پورے جسم کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ |
|