وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ گل پلازا میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازا کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی، اس سانحے کے بعد ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، لاشوں کو ملبے سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جائے گا، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، ڈی این اے کے ذریعے لاشوں کی شناخت کی جارہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سانحے میں 86 افراد لاپتہ تھے دو کا پتہ چل گیا تھا وہ اسپتال میں تھے، باقی لوگوں کی تلاش کا عمل جاری ہے، وزیراعلیٰ نے متعلقہ لوگوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی حکومت اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
کیا سانحہ گل پلازا آخری سانحہ ہوگا؟ یہ اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہو رہی ہے: مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انسانوں کی تسلیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ایم کیو ایم بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر لواحقین کی فیملی کو ایک ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، آگ بجھانے کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا، حکومت فائر فائٹر کی فیملی کے غم میں برابر کی شریک ہے۔