حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دماغ کو دیے جانے والے ہلکے برقی جھٹکے انسان کے رویّے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
جریدے پلاس بائیولوجی PLOS Biology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دماغ کے 2 مخصوص حصوں کو متحرک کرنے سے افراد میں فیاضی اور دوسروں کے لیے قربانی دینے کا جذبہ نمایاں طور پر بڑھ گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ان دماغی حصوں کو بیک وقت فعال کیا گیا تو اس بات کے امکانات بڑھ گئے کہ وہ فرد انعامی رقم میں سے زیادہ حصہ دوسرے شخص کو دینے کا فیصلہ کرے گا۔
اس مطالعے کے لیے سائنس دانوں نے تقریباً 44 افراد کو ’ڈکٹیٹر گیم‘ میں حصہ لینے کی پیشکش کی۔
اس کھیل میں شرکاء کو فوری طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ دستیاب رقم میں سے کتنا حصہ دوسرے کھلاڑی کے ساتھ شیئر کریں گے۔
ہر مرحلے پر رقم کی مقدار مختلف ہوتی تھی اور بعض اوقات شریک فرد اپنے ساتھی سے زیادہ یا کم رقم حاصل کر سکتا تھا۔
امریکا کا پہلا ڈیمینشیا ولیج 2027 میں کھلنے کے لیے تیار
اس ولیج میں روایتی گھر میں موجود تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
کھیل کے دوران شرکاء کے سر پر الیکٹروڈز لگائے گئے جو دماغ کے پیریئٹل یعنی درمیانی حصے اور فرنٹل لوبز یعنی سامنے کے حصے تک برقی جھٹکے پہنچاتے تھے، اس اسٹیمولیشن (Stimulation) کے ذریعے ان حصوں کے خلیات کو ہم آہنگ انداز میں بار بار فعال کیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب دونوں دماغی حصوں میں گاما ویوز کی ہم وقتی تال میل موجود تھی تو شرکاء زیادہ امکان کے ساتھ ایثار پر مبنی فیصلہ کرتے تھے، گاما ویوز کو دماغ کا تیز ترین سگنل قرار دیا جاتا ہے، جو مسئلہ حل کرنے اور گہری توجہ سے وابستہ ہے۔
مطالعے کے مرکزی چینی محقق کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی نئی بات یہ ہے کہ ہمیں وجہ اور اس کے اثرات کے شواہد ملے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ہم نے مخصوص اور غیر مداخلتی طریقے سے دماغی نیٹ ورک میں رابطے کو تبدیل کیا تو لوگوں میں چیزوں کو ایک دوسرے سے بانٹنے کے فیصلوں میں مستقل تبدیلی آئی، یعنی انہوں نے اپنے مفاد اور دوسروں کے مفاد کے درمیان توازن مختلف انداز میں قائم کیا۔
تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا کہ تجربے کے دوران دماغی سرگرمی کو براہِ راست ریکارڈ نہیں کیا گیا، اس لیے تحریک اور فیاضی کے درمیان قطعی سبب و نتیجہ کا تعلق قائم نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ تحقیق میں EEG اسکینز استعمال کر کے دماغی سرگرمی پر براہِ راست اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ہم اس بات سے متاثر ہوئے کہ دماغ کے 2 حصوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے سے ایثار پر مبنی فیصلوں میں اضافہ ہوا۔
ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جب ہم نے فرنٹل اور پیریئٹل حصوں کو ہلکے برقی جھٹکوں سے ایک ساتھ اسٹیمولیٹ کیا تو شرکاء دوسروں کی مدد کرنے کے لیے زیادہ آمادہ نظر آئے، حتیٰ کہ انہیں ذاتی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔