|
|
فائل فوٹو۔
نائن الیون کے بعد امریکا نے دنیا میں 3 جنگیں لڑیں۔ 10 ممالک پر بمباری کی اور 9 لاکھ 40 ہزار انسانوں کی جانیں لیں۔ صرف 4 ممالک افغانستان، عراق، شام اور یمن میں 4 لاکھ 30 ہزار لوگ امریکا کے زمینی اور فضائی حملوں میں جاں بحق ہو گئے۔ ان جنگوں اور حملوں پر امریکا کے 58 کھرب ڈالر خرچ ہوئے، مزید 22 کھرب ڈالر ریٹائرڈ فوجیوں پر خرچ کرنا ہوں گے۔
سن 2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ امریکا نے دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان تنازعات پر اندازاً 58 کھرب ڈالر خرچ کیے، معذور اور ریٹائرڈ فوجیوں پر اخراجات ملا کر یہ لاگت 80 کھرب تک جا سکتی ہے۔
غیرملکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد صدر بش، اوباما، بائیڈن اور ٹرمپ ادوار میں امریکا نے 10 ممالک افغانستان، عراق، یمن، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، شام، وینزویلا، نائجیریا اور ایران پر فضائی اور زمینی حملے کیے۔
سب سے پہلی جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ اکتوبر 2001 میں شروع ہونے والی یہ جنگ 20 سال جاری رہی، اس جنگ میں 2 لاکھ 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس جنگ پر امریکا کو تقریباً 22 کھرب 60 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔
مارچ 2003 میں صدر بش نے عراق میں دوسری جنگ شروع کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، یہ دعویٰ تو بعد میں غلط ثابت ہوا مگر عراق میں 3 لاکھ 15 ہزار لوگ مارے گئے۔
2014 سے 2021 تک شام میں داعش کے خلاف امریکی حملوں میں 2 لاکھ 69 ہزار، جبکہ یمن میں 2002 سے 2021 تک ایک لاکھ 12 ہزار لوگ مارے گئے۔
سنہ 2000کی دہائی میں سی آئی اے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے شروع کیے۔ صدر اوباما نے اپنے دور میں یہ حملے بڑھا دیئے، اسی دوران امریکا نے صومالیہ میں القاعدہ سے منسلک عناصر کے خلاف فضائی حملے کیے، 2011 میں امریکا نے نیٹو اتحاد کے ساتھ مل کر لیبیا میں مداخلت کی جس کے بعد ملک طویل بدامنی کا شکار ہوا۔
مہنگی اور تباہ کن بیرونی جنگوں میں امریکی شمولیت ختم کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجود، موجودہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کردی۔ اپنے پیش رو صدور کی طرح، ٹرمپ نے بھی امریکی مفادات کے حصول کے لیے فوجی طاقت پر انحصار کیا، ایک ایسا طرز عمل جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی کی پہچان بنا ہوا ہے۔ |
|