ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع پیمانے پر جنگ کے باعث اماراتی تاجر سونا رعایتی نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے سبب ایک جانب پروازیں منسوخ ہو گئیں اور سپلائرز کی سونے کو اہم تجارتی مرکز سے منتقلی کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد خریدار نئی خریداری سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ وہ غیر معمولی شپنگ اور انشورنس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ فوری ترسیل کی کوئی ضمانت بھی موجود نہیں۔
ملک میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی
عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 34 ڈالرز کم ہو کر 5110 ڈالرز فی اونس ہو گیا۔
نتیجتاً اسٹوریج اور فنڈنگ کے مسلسل اخراجات کی بجائے تاجر لندن کے عالمی معیار کے مقابلے میں فی اونس تقریباً 30 ڈالرز تک کی رعایتی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی، ایشیاء بھر میں سونا برآمد کرنے کا اہم مرکز ہے، نیز یہ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور کئی افریقی ممالک سے آنے والے سونے کا راستہ بھی ہے۔