فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ قرارداد مسترد کردی۔
اپنے بیان میں حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل کی غزہ سے متعلق قرارداد فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پورے نہیں کرتی۔
حماس رہنما کے مطابق یہ قرارداد غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرتی ہے، غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اسے غیرجانبدار نہیں رہنے دے گی۔
غزہ کی تباہ کن جنگ کے بعد بالآخر آگے بڑھنے کا ایک راستہ نظر آ رہا ہے، یو این
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد بالآخر آگے بڑھنے کا ایک راستہ نظر آ رہا ہے۔
حماس ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ہر طرح کی مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں، ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔
قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور غزہ میں عبوری حکومت کے قیام کے نقاط بھی شامل ہیں۔