توشہ خانہ میں تحائف جمع نہ کروانے پر بنگلادیشی حکام نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجدکے بینک لاکرز سے 13 لاکھ ڈالر (تقریباً 37 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کا 10 کلو سونا ضبط کر لیا۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے سینٹرل انٹیلی جنس سیل (سی آئی سی) نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے نام پر رجسٹرڈ دو لاکرز سے سونے کے زیورات برآمد کر لیے۔
سی آئی سی کے ایک اہلکار کے مطابق لاکر نمبر 751 اور 753 کھولنے کے بعد مجموعی طور پر 10 کلو سونا برآمد کیا گیا۔ تمام کارروائی بنگلادیش بینک کے قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کی گئی۔
شیخ حسینہ کی سزائے موت کا فیصلہ، آج کے دن خاص بات کیا؟
58 برس پہلے 17 نومبر 1967 کو ان کی شادی ممتاز طبیعیات دان ایم اے واجد میاں سے ہوئی تھی۔ اور اب اتفاقیہ طور پر 17 نومبر 2025 کو اسی دن انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی۔
اس سے قبل 17 ستمبر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر آگرانی بینک کی دلکشا شاخ میں چھاپہ مار کر یہ دونوں لاکرز ضبط کیے گئے تھے، جن پر مبینہ ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے شبہات تھے۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق ستمبر میں ضبط کیے گئے لاکرز عدالتی حکم پر کھولے گئے، جن میں سے سونے کے بار، سکے اور زیورات برآمد ہوئے۔
شیخ حسینہ نے اقتدار کے دوران ملنے والے کچھ تحائف ریاستی خزانے میں جمع نہیں کروائے تھے۔
شیخ حسینہ کا سیاسی غلبے سے سزائے موت تک کا سفر
1975 کے فوجی بغاوت میں اپنے والد اور خاندان کے بیشتر افراد کی ہلاکت کے بعد وہ جلاوطنی میں بھارت منتقل ہو گئیں۔ 1981 میں واپسی کے بعد انہیں عوامی لیگ کی قیادت سونپی گئی۔
بنگلادیشی عدالت نے رواں ماہ شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی ہے۔
خیال رہے کہ 17 نومبر کو جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے شیخ حسینہ کی سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔ ٹریبونل کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل تھے۔
روزانہ اجرت پر کام کرنیوالا شیخ حسینہ کا چپڑاسی 100 کروڑ کی منی لانڈرنگ میں ملوث نکلا
میڈیا رپورٹ کے مطابق سی آئی ڈی نے ابتدائی تحقیقات میں خاطر خواہ شواہد ملنے کے بعد آج نوکھالی کے چٹخل تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
عدالت نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
عدالت نے بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم دیا جبکہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللّٰہ المامون کو 5 سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، انہوں نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کیلیے توہین آمیز اقدامات کیے۔