اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 سالہ فلسطینی بچہ مصطفیٰ ابو طالب ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے سے زندگی بھر کیلئے معذور ہوگیا، ایک اور واقعے میں 8 سالہ بچے علی ابو صبحہ کی بینائی شدید متاثر ہوگئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق غزہ کا مصطفیٰ ابو طالب اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں شدید معذوری کا شکار ہو گیا ہے۔
غزہ: اسرائیلی فوج کی گھر پر بمباری سے 1 خاندان کے تمام افراد شہید
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری ہے، گزشتہ روز صہیونی فوج نے ایک گھر پر بم باری کر کے خاندان کے تمام افراد کو شہید کر دیا۔
گولی اس کے سینے کو چیرتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتویں مہرے تک جا پہنچی، جس نے اس کی ریڑھ کی ہڈی، پھیپھڑوں اور اندرونی اعصاب کو نقصان پہنچایا، اس حملے کے بعد سے مصطفیٰ کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔
خاندانی ذرائع اور طبی اہلکاروں کے مطابق مصطفیٰ اب اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔ وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہے جسے غزہ کے ڈاکٹر کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
محصور غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ضروری طبی آلات، ادویات اور ماہر علاج کی عدم دستیابی کے باعث وہ پیچیدہ اسپائن اور اسپائنل کارڈ سرجریز جو اس کی جان بچا سکتی ہیں، غزہ میں ممکن نہیں۔
غزہ: امتحانی نتائج کا اعلان، کئی کامیاب طلبہ شہید ہوچکے
اکتوبر کے آخر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ اپنے خاندان کے 18 افراد کے ساتھ شہید ہوگئیں۔ دوحہ کو عزم و ہمت کی مثال سمجھا جاتا تھا، مگر ان کا خواب جنگ کی نذر ہوگیا۔
ڈاکٹرز کے مطابق مصطفیٰ کو فوری طور پر بیرونِ ملک منتقل کیے بغیر اس کی حالت ناقابلِ واپسی نقصان میں بدل سکتی ہے۔ اس کے اہلِ خانہ اور طبی عملہ عالمی برادری سے اس کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر طبی انخلا اور علاج کی اپیل کر رہے ہیں۔
غزہ میں جاری مسلسل بمباری کے دوران پانی جمع کرتے ہوئے گرتے وقت قریب ہونے والی شیلنگ نے 8 سالہ علی ابو صبحہ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
غزہ: شدید بارش میں معصوم بچے گیلی زمین پر سونے پر مجبور
غزہ کے بچے اپنے دبلے پتلے جسموں کو پلاسٹک کے تھیلوں سے ڈھانپ کر تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حادثے میں اس کی بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو گئی، جبکہ اب اس کی دائیں آنکھ بھی ناکارہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق علی کی بچی ہوئی بینائی بچانے کے لیے فوری طور پر خصوصی تشخیص، ادویات اور پیچیدہ علاج کی ضرورت ہے، جو محصور غزہ میں دستیاب نہیں۔
خطے میں تباہ حال اسپتال اور شدید قلتِ ادویات کے باعث مقامی طبی عملہ اس کے علاج سے قاصر ہے، اگر فوری منتقلی نہ ہوئی تو علی مکمل طور پر نابینا ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ علاج میں مزید تاخیر سے اس کی دائیں آنکھ کی بینائی بھی مستقل طور پر ضائع ہوسکتی ہے۔