Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 819|Reply: 0

بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

[Copy link]

510K

Threads

0

Posts

1710K

Credits

论坛元老

Credits
178057
Post time Yesterday 17:20 | Show all posts |Read mode
  —فائل فوٹو

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً  گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، رواں سال خیبر پختونخوا میں 12857 اور بلوچستان میں 53309 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔   
بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، پاکستان بھارتی دہشتگردی کےثبوت اقوام عالم کے سامنےمتعدد مرتبہ پیش کرچکا ہے۔   

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتِ حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں یا اسمگلنگ، تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمے داری ہے؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2025-11-30 18:23 GMT+5 , Processed in 0.049391 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list