Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 992|Reply: 0

مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبہ کی گرفتاری روک دی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194281
Post time 2025-12-2 22:02:57 | Show all posts |Read mode
  
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز—فائل فوٹو

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبہ کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب 16 سالہ بچوں کو اسمارٹ کارڈ اور موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔   
—فائل فوٹو

پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کو عوام بالخصوص طلبہ کے لیے ہفتۂ آگاہی منایا جائے گا، ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ چالان ہو گا۔

ٹریفک کے لیے پہلی مرتبہ ڈرون اور باڈی کیم کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کم عمر طلبہ یا بچوں سے زیادہ والدین کو ٹریفک قوانین سے متعلق کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین عوام کی جان کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں، عوام کو اپنی حفاظت کے لیے عادتوں کو بدلنا ہو گا، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیے

  • کم عمر افراد کے چنگچی رکشا چلانے، پانچ سے زائد مسافروں کو بٹھانے پر پابندی  
  • کم عمر 30 سے زائد ڈرائیوروں کا چالان، مقدمات درج  




وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ معصوم بچوں کو نہیں پکڑنا چاہتے، مگر قانون کی پاسداری ضروری ہے، بچوں کا قصور نہیں، ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کو روڈسیفٹی کے لیے ہیلمٹ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کریں، ٹریفک پولیس عوام کی عزتِ نفس کا خصوصی خیال رکھے، بد اخلاقی اور بدتمیزی نہ کی جائے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس موقع پر دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 2445 پولیس گاڑ یاں قانون کی زد میں آ گئی ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 18:46 GMT+5 , Processed in 0.046195 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list