آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ سڈنی واقعے کا مسلح ملزم نوید اکرم کسی انسدادِ دہشت گردی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔
سڈنی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں مسلح افراد کسی بڑے انتہا پسند سیل کا حصہ نہیں تھے، دونوں مسلح افراد واضح طور پر شدت پسند نظریات سے متاثر تھے۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ پولیس واقعے میں کسی تیسرے شخص سے تحقیقات نہیں کر رہی، ملزمان کی کار سے متعدد دیسی ساختہ آئی ای ڈیز ملی ہیں۔
آسٹریلیا: سڈنی میں یہودیوں کے تہوار کی تقریب پر حملہ، 12 ہلاک ، واقعہ دہشت گردی قرار
فائرنگ سے 2 پولیس اہلکاروں سمیت 29 افراد زخمی ہوئے ہیں، جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا، فائرنگ کرنے والا دوسرا شخص زخمی اور حراست میں ہے۔
خیال رہے کہ سڈنی کے ساحل پر حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
24 سالہ حملہ آور نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ نوید کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ماں اٹلی کی ہے۔
مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ ہم اس حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، ہم اکثر بات کرتے تھے کہ اس کے پاس اسلحے کے لائسنس تھے۔