پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر زمان نے اپنے خلاف مقدمے کی درخواست کے بعد پہلی بار خاموشی توڑ دی، اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے جاری تنازع پر اپنا ردِعمل دیا ہے۔
صبا قمر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اداکارہ نے بغیر اجازت پولیس کی وردی زیب تن کی۔
یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا جب ایک ویڈیو گردش کرنے لگی، جس میں صبا قمر کو ڈریسنگ روم میں ایس پی کی وردی پہنے دیکھا گیا، اس کے بعد اداکارہ نے ڈیوا میگزین کے ایڈیٹر اِن چیف راحیل راؤ کی ایک پوسٹ ری شیئر کی، جس میں انہوں نے صبا قمر کا دفاع کیا۔
صبا قمر کیخلاف پنجاب پولیس کا یونیفارم پہننے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست
صبا قمر کے پولیس یونیفارم پہن کر ویڈیو شوٹ کروانے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی گئی۔
راحیل راؤ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ڈیئر مسٹر چومو! کیا آپ توقع کر رہے تھے کہ وہ پولیس افسر کا کردار دلہن کے لباس یا لان کے سوٹ کے ساتھ ادا کریں گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ کردار ہمیشہ رول کے مطابق لباس پہنتے ہیں، نہ کہ آپ کی بے وقوفانہ تخلیق کے مطابق۔
اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے صبا قمر نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اوہ خدایا! آج کل میں بہت زیادہ مشہور ہوگئی ہوں، جس کے ساتھ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایموجیز بھی شامل کیے۔
واضح رہے کہ یہ درخواست وکیل آفتاب باجوہ نے شہری وسیم زوار کی جانب سے دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو سرکاری اجازت کے بغیر پولیس کی وردی یا ایس پی کے عہدے کا بیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔