Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 593|Reply: 0

’شرمندگی محسوس کر رہا ہوں،‘ جاوید اختر کا طالبان وزیر کے استقبال پر سخت ردعمل

[Copy link]

510K

Threads

0

Posts

1710K

Credits

论坛元老

Credits
178057
Post time 2025-10-14 17:39:17 | Show all posts |Read mode
  
---فائل فوٹوز

معروف بھارتی نغمہ نگار و مصنف جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے استقبالیے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے اس رویے پر ’شرمندگی‘ محسوس کر رہے ہیں۔

جاوید اختر نے امیر خان متقی کے دورے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنا بیان جاری کیا ہے۔

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بیانات دینے والے حلقے اب اِنہی عناصر کو عزت دے رہے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دیا، مجھے ایسے مناظر دیکھ کر بطور بھارتی شہری شرمندگی ہوتی ہے۔

اُنہوں نے بھارت میں معروف دینی ادارے دارالعلوم دیوبند پر بھی طالبان رہنما کے خیرمقدم پر شدید  تنقید کی ہے۔   
بھارت: افغان وزیر خارجہ کا معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا دورہ

افغان وزیر خارجہ کے استقبال کے موقع پر طلبا سمیت لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے سے بدنظمی دیکھنے میں آئی اور افغان وزیر خارجہ کے حفاظتی حصار کی خلاف ورزی پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔   

جاوید اختر نے کہا کہ جس شخص کے دور میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے، اِسے ’اسلامی ہیرو‘ کے طور پر پیش کرنا افسوسناک ہے۔

واضح رہے کہ امیر خان متقی اس وقت بھارت کے چھ روزہ دورے پر موجود ہیں، یہ 2021ء میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد کسی طالبان رہنما کا پہلا باضابطہ طور پر بھارتی دورہ ہے۔

امیر خان متقی کا یہ دورہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد سفری پابندی میں دی گئی عارضی رعایت کے بعد ممکن ہوا ہے۔  

امیر خان متقی کو 2001ء سے سفری پابندی، اثاثوں کے منجمد ہونے اور اسلحہ رکھنے پر پابندی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب متقی کے دورے کے دوران دہلی میں اِن کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی پر بھی بھارتی عوام کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

کئی بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافتی تنظیموں نے اس صورتحال کو ’خواتین کی توہین‘ قرار دیا ہے۔

جاوید اختر کے سخت بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔

صارفین نے اِن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارت میں دہشت گرد گروہوں کے نمائندوں کو سرکاری سطح پر عزت کیوں دی جا رہی ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2025-11-30 19:01 GMT+5 , Processed in 0.045542 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list