پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی خان نے پاکستانی ڈراموں میں اسکرپٹ کے معیار کے بجائے کمرشل اپیل کو زیادہ ترجیح دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کی ہے۔
علی خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران گزشتہ سال 3 ڈراموں میں کام کرنے کے تجربے کے بارے میں بات کی۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں ایک سال میں 3 ڈراموں میں کام کیا اور تینوں ڈراموں کی کہانی ملتی جلتی سی لگی۔
اداکار نے مزید بتایا کہ میں ابھی ہانیہ عامر کے ساتھ ایک ڈرامے میں کام کر رہا ہوں اور اس ڈرامے میں والد ایک ایسے والد کا کردار ادا کر رہا ہوں جو ایک ڈاکٹر ہے لیکن پورے ڈرامے میں ایک بار بھی میں کلینک نہیں گیا بلکہ میں پورے ڈرامے میں صرف گھریلو معاملات کو سنبھالتے نظر آ رہا ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ ’جب میں نے یہ سب دیکھا تو ڈائریکٹر سے پوچھا کہ یہ ڈاکٹر ہے یا بنیا ہے؟ میرا مطلب ہے، یہ بالکل بکواس ہے۔‘
علی خان ممبئی چھوڑ کر کراچی میں کیوں آ بسے؟
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی خان نے ممبئی چھوڑ کر کراچی میں رہائش اختیار کرنے کی وجہ بتا دی۔
علی خان نے کہا کہ ہمارے ڈرامے زیادہ تر ایک جیسے مسائل کو ہی اُجاگر کرتے نظر آتے ہیں یعنی ایک ڈرامہ مقبول ہو جائے تو اسی طرز پر مزید 3 ڈرامے بنا لیے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹنگ کے لوگ چینلز کو بتاتے ہیں کہ کس طرح کی کہانیوں کو بیچنا آسان ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ لیکن اگر ایک جیسی بکواس کہانیاں پسند کی جا رہی ہیں اور عالمی سطح پر بھی ان کی تعریف ہو رہی ہے تو کون صحیح ہے؟
اداکار نے سوال اُٹھایا کہ ہم لوگوں کو کچھ نئی اور سبق آموز کہانیاں کیوں نہیں سنانا چاہتے یعنی والدین کو بچوں کی شادیاں کرواتے دکھانے کے بجائے بچوں کو والدین کی شادیاں کرواتے کیوں نہیں دکھا سکتے؟ ایسا ڈرامہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟
انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ڈراموں میں اسکرپٹ کے معیار کے بجائے کمرشل اپیل کو زیادہ ترجیح دینے کا بڑھتا ہوا رجحان ڈرامہ انڈسٹری کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔