Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 641|Reply: 0

گل پلازا آتشزدگی، ننھے مہمان کی آمد کی تیاریوں کیلئے آئی فیملی بھی لاپتہ، بھائی نے دل دہلا دینے والی تفصیل بتادی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
206113
Post time 2026-1-20 23:05:08 | Show all posts |Read mode
  فوٹو: اے پی پی

کراچی کے گل پلازا میں لگنے والی آگ کے باعث لاپتہ ہونے والے عمر نبیل کے بھائی محمد راحیل نے جیو نیوز سے گفتگو میں دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کی ہیں۔

محمد راحیل نے بتایا کہ عمر نبیل فیملی کے ساتھ اپنے آنے والے بچے اور گھر کے لیے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے، آگ لگنے کے وقت عمر نبیل کی اپنے ہم زلف سے فون پر بات ہوئی۔   
گل پلازا تاجروں کیلئے متبادل جگہ کی فراہمی زیر غور ہے، مرتضیٰ وہاب

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حکومت گل پلازا کے متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔   

ٹیلیفونک گفتگو میں عمر نبیل نے بتایا کہ وہ فرسٹ فلور پر موجود ہیں، عمارت میں شدید دھواں بھر چکا ہے، کچھ نظر نہیں آ رہا، ہم برتنوں کی دکان کے قریب ہیں اور آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔

محمد راحیل کے مطابق آخری کال رات 11 بج کر 7 منٹ پر کنیکٹ ہوئی، تاہم وہ کال وصول نہ ہو سکی، عمر نبیل اور ان کی فیملی کی آخری لوکیشن میز نائن فلور کی سامنے آئی۔   
سانحہ گل پلازا، سندھ حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی، ناصر شاہ

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا پر صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی ہے۔   

اطلاع ملتے ہی اہل خانہ فوری طور پر گل پلازہ پہنچے، جہاں فائر بریگیڈ اور اسنارکل موجود تھی، محمد راحیل نے ریسکیو کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ غیر تربیت یافتہ محسوس ہوا اور لوگوں کے بروقت اخراج کا منصوبہ بنانے کے بجائے صرف آگ بجھانے میں مصروف رہا۔

انہوں نے کہاکہ گل پلازا کی تمام کھڑکیاں اے سی لگے ہونے کی وجہ سے اینٹوں سے بند تھیں، جس کے باعث دھواں خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا، آگ صرف گراؤنڈ فلور تک محدود تھی اور اگر دیواریں اور کھڑکیاں توڑ دی جاتیں تو عمارت میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جا سکتا تھا۔   
مرتضیٰ وہاب کی شہید فائر فائٹر فرقان کے لواحقین کیلئے 1 کروڑ کی مالی معاونت کا اعلان

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہید فائر فائٹر فرقان کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کردیا۔   

محمد راحیل کے مطابق 45 سال کے عمر نبیل ٹیکسٹائل فیکٹری میں چیف فنانشل آفیسر تھے، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ 35 سال کی تھیں اور 9 ماہ کی حاملہ تھیں جبکہ ان کا 14 سالہ بیٹا علی بن عمر بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔

گل پلازا میں نئے آنے والے بچے کی تیاری کے لیے شاپنگ کرنے گئے عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور 14 سالہ بیٹا علی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

دوسری طرف گل پلازا کی چھت سے کرین کی مدد سے 7 گاڑیاں اتارلی گئیں ہیں جبکہ آتشزدگی سے تباہ ہونے والے پلازے میں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

جیو نیوز کی ٹیم گل پلازہ کی متاثرہ عمارت کے اندر پہنچ گئی، عمارت کے اندر جہاں کبھی سجی سجائی دکانیں اور خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں اب دھویں کی سیاہی، سنسان راہداریاں اور ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-3 03:35 GMT+5 , Processed in 0.050056 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list