ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ گل پلازا واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔
گل پلازا میں ملبے تلے لاپتا افراد کو ڈھونڈنے کے لیے آپریشن جاری ہے، مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ مشینری کے استعمال سے عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے، ملبے کے باعث عمارت کے گرنے والے حصوں میں سرچنگ نہیں کی جا سکتی۔
سانحہ گل پلازا: ڈی این اے سیمپل کے ذریعے 15 لاشوں کی شناخت کرلی گئی
پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈن کے رہائشی سرفراز کی شناخت ہوگئی، میٹروویل کے رہائشی محمد عثمان کی شناخت ہوگئی، گوجرانوالہ کے رہائشی محمد رضوان کی بھی شناخت ہوگئی۔
گل پلازا میں 88 لاپتا افراد میں سے 60 افراد کی لاشیں یا باقیات مل چکی ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر سانحہ گل پلازا کے متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے ریسکیو اور تحقیقاتی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
پولیس اور رینجرز نے خواتین کو عمارت کے اندر جانے سے روک دیا، لواحقین نے اپیل کی کہ ان کے بچوں کو تلاش کیا جائے۔
دوسری جانب تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے سانحے سے متعلق رپورٹ تیار کرلی۔
گل پلازا مارکیٹ ایسوسی ایشن مینٹیننس کی مد میں ماہانہ سوا کروڑ روپے لیتی تھی، سٹی تاجر اتحاد
تاجر رہنما کا کہنا ہے کہ فی اسکوائر فٹ مینٹیننس 245 روپے مقرر تھی، اتنی بھاری رقم کے باوجود انتظامات نہ ہونے پر مارکیٹ ایسوسی ایشن جواب دے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی، ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی، عمارت میں بیشتر دکانیں کھلی ہوئی تھیں، عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی، آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔