برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ، مستقبل کے بادشاہ پرنس ولیم نے سعودی عرب کا اپنا پہلا سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے جسے سفارتی سطح پر نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
شہزادہ ولیم کو ریاض پہنچنے پر نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے خوش آمدید کہا۔
’دی نیوز انٹرنیشنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پرنس ولیم کا یہ دورہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانوی سفارتی ذرائع کے مطابق شہزادہ ولیم کی حیثیت مستقبل کے بادشاہ کے طور پر اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے اور دونوں ممالک اس تعلق کو دیرپا دوستی میں بدلنا چاہتے ہیں۔
جنسی اسکینڈل فائلز: ٹرمپ معافی کا اعلان کریں تو گواہی دینے کو تیار ہوں، گزلین میکسویل
گزلین میکسویل پر ایسپٹین کے ساتھ مل کر جنسی مقاصد کے لیے کم عمر لڑکیوں کی انسانی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہوگیا تھا۔
دوسری جانب امریکا میں ایپسٹین فائلز کے سلسلے میں سامنے آنے والی نئی دستاویزات کے بعد شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہی جوڑا ایپسٹین فائلز کے انکشافات پر گہری تشویش رکھتا ہے اور ان کی توجہ اس سے متاثرہ افراد پر مرکوز ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے ترجمان کے مطابق شہزادہ اور شہزادی کے خیالات اور ہمدردیاں ایپسٹین فائلز کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔
یہ بیان شہزادہ ولیم کے سعودی دورے کے دوران سامنے آیا ہے۔