Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 149|Reply: 0

بھارت: مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے پر انتہاپسندوں کے سامنے کھڑا ہونیوالا شخص اسٹار بن گیا

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
206090
Post time 2026-2-13 02:10:40 | Show all posts |Read mode

  

بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے کے خلاف انتہا پسندوں کے آگے کھڑا ہونے والا مقامی ہندو شہری سوشل میڈیا اسٹار بن گیا۔

بجرنگ دل کے کارکن مسلمان دکاندار کو اس کی دکان کا برسوں پرانا نام “بابا“ تبدیل کرنے کے لیے دھمکا رہے تھے، جس پر دیپک کمار نامی شخص سامنے آیا۔

انتہا پسندوں کو اپنا نام محمد دیپک بتایا اور دلائل دے کر انتہاپسندوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، نفرت انگیزی کے خلاف اقدام پر دیپک کمار کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد ایک ہفتے میں 9 لاکھ سے اوپر چلی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق محمد دیپک دراصل دیپک کمار ہے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک جم ٹرینر ہے۔ وہ واقعہ جس نے دیپک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، 26 جنوری 2026 کو پیش آیا۔   
بھارت: ہولی پر ہندو انتہاپسندوں کے حملوں کا خطرہ، مساجد کو ترپالوں سے ڈھانپ دیا گیا

ہولی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، مقامی انتظامیہ نے مسلمان شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی جاری کی۔   

کوٹدوار میں بعض ہندو تنظیموں نے ایک کپڑوں کی دکان ’بابا اسکول گارمنٹس‘ کے نام پر اعتراض کیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ لفظ ’بابا‘ ہندو مذہبی روایت سے جڑا ہوا ہے اور کسی مسلمان دکاندار کو یہ نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

دکان کے مالک وکیل احمد کا کہنا تھا کہ ان کی دکان تقریباً 30 برس سے چل رہی ہے اور اس سے قبل کبھی کسی نے نام پر اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق لفظ ’بابا‘ مختلف مذاہب میں استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف ہندو مذہب تک محدود نہیں۔   
بھارت: اپنے ساتھ افیئر چلانے والے تاجر کی قاتل انتہا پسند خاتون رہنما گرفتار

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ علی گڑھ سے تعلق رکھنے والی اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی عہدیدار پوجا شکون پانڈے 26 ستمبر کو تاجر ابھیشیک گپتا کے قتل کی مرکزی ملزمہ ہیں، انہیں آج بھارت پور (راجستھان) سے گرفتار کر لیا گیا۔   

اسی دوران دیپک کمار نے مداخلت کی اور بجرنگ دل اور دیگر گروپوں کے افراد سے بات کی۔ جب حالات کشیدہ ہو گئے اور ان سے ان کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنا تعارف محمد دیپک کے نام سے کروایا۔

دیپک کے مطابق جب بجرنگ دل کے چند افراد دکاندار سے سوالات کر رہے تھے اور نام پوچھے جا رہے تھے تو محمد دیپک کا نام بے ساختہ ان کے ذہن میں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ صرف ایک بھارتی شہری ہیں اور ہر انسان کو اس ملک میں بغیر نشانہ بنے جینے کا حق حاصل ہے۔   
بھارت: ہندو مذہبی نعرہ نہ لگانے پر مسلمان نوجوان کو قتل کردیا گیا

بالاسور میں ہلاک کیے گئے 35 سالہ مسلمان کو انتہا پسند ہندووں کے جتھے نے    

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے، کیونکہ موت کے بعد انسان کے اعمال ہی اس کی پہچان بنتے ہیں۔

دیپک کے مطابق 26 جنوری کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی ہے۔ انہیں مسلسل فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں سے اکثر حمایتی ہیں، تاہم اس صورتحال نے ان کے روزگار کو بھی متاثر کیا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-3-2 23:23 GMT+5 , Processed in 0.047600 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list