ماہرین کی جانب سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاؤں یا ٹخنوں میں آرام کے باوجود سوجن کم نہ ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں کیوں کہ یہ کسی مخصوص غذا کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقل سوجن بعض اوقات جسم میں پروٹین کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
پروٹین خون میں موجود ایک اہم جزو البومن کے ذریعے جسم میں سیال (فلوئیڈ) کا توازن برقرار رکھتا ہے، جب پروٹین کم ہو جائے تو سیال خون کی نالیوں سے باہر نکل کر بافتوں میں جمع ہو جاتا ہے جس سے سوجن (اوڈیما) پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر پاؤں اور ٹخنوں کے ارد گرد۔
پروٹین کیوں ضروری ہے؟
وہ 5 غذائیں جن میں ’السی‘ سے زیادہ اومیگا تھری موجود
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل اور دماغ کی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں، عام طور پر فلیکس سیڈز (السی) کو اومیگا تھری کا بہترین پودوں سے حاصل ہونے والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جن میں السی کے بیجوں سے بھی زیادہ یا زیادہ مؤثر اقسام کے اومیگا تھری موجود ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پروٹین خون کی نالیوں کے اندر سیال کو برقرار رکھتا ہے، کمی کی صورت میں سیال جسم میں نیچے کی جانب جمع ہو جاتا ہے جس سے پاؤں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
پروٹین کی کمی کی علامات
پروٹین کی کمی کی علامات میں مسلسل تھکن، بالوں کا جھڑنا یا کمزور ہونا، ناخنوں کا ٹوٹنا، بار بار انفیکشن ہونا، زخم بھرنے میں دیر لگنا، پٹھوں کا کمزور یا کم ہو جانا اور شدید حالت میں پیٹ یا چہرے پر بھی سوجن آ جانا شامل ہے۔
کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟
پروٹین کی کمی سے بزرگ افراد جن کی بھوک کم ہو، بہت کم پروٹین والی یا سخت ڈائٹس کرنے والے افراد، گردوں یا جگر کے مریض، آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد اور کسی بڑی بیماری یا سرجری سے صحت یاب ہونے والے افراد افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
کیا ہر سوجن پروٹین کی کمی سے ہوتی ہے؟
کیا آپ زیادہ سرخ گوشت کھاتے ہیں؟ نئی تحقیق میں ظاہر یہ خطرہ بھی دیکھ لیں
یہ مطالعہ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوا، جس میں پروسیسڈ اور غیر پروسیسڈ سرخ گوشت کے استعمال اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
نہیں! سوجن کی دیگر وجوہات میں زیادہ نمک، طویل وقت تک بیٹھنا یا کھڑے رہنا، حمل، دل، گردوں یا جگر کے مسائل اور بعض ادویات شامل ہیں۔
اسی لیے مستقل سوجن کی صورت میں خود تشخیص کے بجائے طبی معائنہ ضروری ہے۔
روزانہ کتنی پروٹین درکار ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کے لیے عموماً وزن کے ہر کلو گرام پر 0.8 سے 1 گرام پروٹین کافی ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر 60 کلو وزن والے فرد کو روزانہ 48 سے 60 گرام پروٹین درکار ہو سکتی ہے، مقدار کے تعین کے لیے ماہرِ غذائیت سے مشورہ لینا بہتر ہے۔
پروٹین کے اچھے ذرائع
چکن بمقابلہ انڈا: پروٹین اور منرلز کا بہتر ذریعہ کیا ہے؟
چکن اور انڈے دونوں ہی پروٹین اور منرلز سے بھرپور غذائیں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ صحت کے لیے کون سا آپشن زیادہ فائدہ مند ہے؟ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب آپ کی غذائی ضرورت اور صحت کے مقصد پر منحصر کرتا ہے۔
جب سوجن چند دن میں کم نہ ہو، دونوں پاؤں مستقل سوجے ہوں، سانس میں دشواری ہو یا اچانک وزن بڑھے تو ڈاکٹر سے رجوع کر لینا چاہے۔
درد، سرخی یا گرمی محسوس ہو تو کیا کیا جائے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاؤں کی مستقل سوجن کو معمولی نہ سمجھیں، متوازن غذا کے ذریعے مناسب پروٹین کا استعمال مجموعی صحت، قوتِ مدافعت اور سیال کے توازن کے لیے ضروری ہے۔
شک کی صورت میں خون کا سادہ سا ٹیسٹ بھی حقیقت واضح کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔