Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 826|Reply: 0

بیٹی کو گود لیتے وقت کونسی مشکلات پیش آئیں؟ سشمیتا سین کا انٹرویو وائرل

[Copy link]

510K

Threads

0

Posts

1710K

Credits

论坛元老

Credits
178152
Post time 2025-10-15 20:18:45 | Show all posts |Read mode
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی بیٹیوں رینی اور علیشہ کو گود لینے کے دوران پیش آنے والی قانونی مشکلات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے اس فیصلے میں ان کا بےحد ساتھ دیا۔

سشمیتا کا کہنا تھا کہ سن 2000 میں جب انہوں نے پہلی بچی کو گود لینا چاہتا تو اُس وقت کے قوانین غیر شادی شدہ خواتین کو بچوں کو گود لینے سے نہیں روکتے تھے، مگر سماجی تعصب اور قانونی پیچیدگیوں نے ان کیلئے یہ عمل نہایت مشکل بنا دیا تھا۔

اداکارہ نے بتایا کہ وہ 21 برس کی تھیں مگر وہ شادی کرنے کے بجائے ایک بیٹی کو گود لے کر ماں بننے کی خواہش رکھتی تھیں اور 24 سال کی عمر میں اپنی پہلی بیٹی رینی کو گود لینے کے لیے عدالت گئی تھیں۔

سشمیتا کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں خوف تھا کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو بچی جس کو وہ اپنا چکی ہیں ان سے واپس لے لی جائے گی۔ سشمیتا کے مطابق ان کے والد شوبیر سین نے بچی کو  گود لینے کے اس فیصلے میں بھرپور ساتھ دیا اور اپنی تمام جائیداد بھی ان کی بیٹی رینی کے نام کردی کیونکہ یہ قوانین کے مطابق شرط تھی کہ جائیداد کا نصف حصہ بچے کے نام کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عدالت کے جج نے ان کے والد سے کہا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو بچی گود لینے دیں گے تو کوئی اچھا لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا، جس پر والد نے جواب دیا کہ انہوں نے بیٹی کو صرف کسی کی بیوی بننے کے لیے پرورش نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد سشمیتا سین 2000 میں بھارت کی پہلی سنگل مدر بننے والی معروف شخصیت بن گئی تھیں جبکہ انہوں نے چند سالوں بعد ایک اور بچی علیشہ کو بھی گود لیا۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2025-12-1 03:35 GMT+5 , Processed in 0.044229 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list