ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
ایران نے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو 20 گنا سخت جواب دینگے: ٹرمپ
اگر ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کرے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے، امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ جو ملک اسرائیلی وامریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔