ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاک افغان سیزفائر اعلان کے بعد مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے۔
پاک افغان کشیدگی سے متعلق ایران کے موقف پر اجلاس سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطاب کیا۔
تہران سے ایرانی میڈیا کے مطابق اس موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ مسلم ممالک تنازعات اور تقسیم کو مسترد کرتے ہیں، بےامنی مسلم دشمنوں اور بین الاقوامی سازشوں کا نتیجہ ہے۔
افغان طالبان نے بھارت کی شہ پر حملہ کیا، پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے دو ہزار کلو میٹر کا بارڈر شیئر کرتا ہے، اپنے محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پاک افغان کشیدگی نے خطے کے ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا، امید ہے دونوں ممالک اختلافات کو حکمت کے ذریعے حل کریں گے۔