وٹامن ڈی جسے عام طور پر سَن شائن وٹامن کہا جاتا ہے، انسانی صحت کا ایک نہایت اہم جز ہے، یہ ناصرف ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار ادا کرتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت، دماغی صحت اور جذباتی توازن کو بھی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی دنیا بھر میں عام ہے لیکن ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد اس کمی سے لاعلم رہتے ہیں۔
وٹامن ڈی کی اہمیت
وٹامن ڈی کی کمی کا آنتوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟
وٹامن ڈی کی کمی کو اکثر انسانی جسم میں ہڈیوں کی کمزوری سے جوڑا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے انسان کی آنتیں بھی بہت بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔
وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے، اس کی کمی بچوں میں رکٹس (Rickets) اور بڑوں میں آسٹیوپوروسس (Osteoporosis) جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، وٹامن ڈی مجموعی صحت اور مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی عام طور پر ایشیائی باشندوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ اس کی علامات بھی کم معلومات ہونے کے سبب واضح نہیں ہوتیں۔
وٹامن ڈی کی کمی اکثر تھکن، اداسی، اور بار بار ہونے والے انفیکشنز کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
دیگر ممکنہ علامات میں کمر یا ہڈیوں میں درد، زخموں کا دیر سے بھرنا، بالوں کا گرنا، پٹھوں میں درد، اضطراب کی کیفیت، ڈپریشن اور وزن میں اضافہ شامل ہے۔
وٹامن ڈی حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع
ڈاکٹرز کے مطابق وٹامن ڈی کا بہترین ذریعہ سورج کی روشنی ہے، 10 سے 30 منٹ تک بازو اور ٹانگوں کو سورج کی روشنی میں رکھنے سے جسم خود بخود 1000 سے 2000 یونٹ وٹامن ڈی پیدا کر لیتا ہے۔
غذائی ذرائع
وٹامن ڈی کی کمی دور کرنے والی 8 غذائیں کونسی ہیں؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت سی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے جبکہ وٹامن ڈی جسمانی افعال کی صحیح کارکردگی کے لیے ناگزیر جز ہے۔
چربی والی مچھلیاں جیسے سالمن اور ٹونا، انڈے کی زردی اور مشروم میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔
وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ کب لینا چاہیے؟
اگر کسی میں وٹامن ڈی کی شدید کمی پائی جائے تو ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں تاہم اُنہوں نے خبردار کیا کہ زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار گردوں کے مسائل پیدا کر سکتی ہے، بالغ افراد کے لیے روزانہ 600 سے 800 انٹرنیشنل یونٹ مقدار کافی ہے لیکن سپلیمنٹ لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر مشورہ ضرور کریں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری اور اس کی تشخیص کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔