Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 211|Reply: 0

طالبان قیادت میں اندرونی تصادم: ’کابل بمقابلہ قندھار‘ طاقت کی جنگ سامنے آگئی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193910
Post time 2026-1-16 00:47:09 | Show all posts |Read mode
افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں سخت اندرونی اختلافات منظر عام پر آئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اب عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کی ایک لیک ہونے والی آڈیو کلپ میں انہیں متنبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اندرونی تقسیم کے نتیجے میں اسلامی امارت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق طالبان قیادت دو واضح دھڑوں میں منقسم ہے۔ قندھار میں موجود گروہ کی قیادت ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں ہے جو ایک سخت گیر اسلامی امارت کے قائل ہیں۔   
افغان طالبان نے 13 سالہ لڑکے سے قاتل کو سرعام سزائے موت دلوا دی

طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے گیارہ افراد کو سرعام سزائے موت دی جا چکی ہے۔   

ان کا تصور ایک ایسے نظام کا ہے جو جدید دنیا سے کٹا ہوا ہو، جہاں مذہبی شخصیات کے ذریعے معاشرے پر مکمل کنٹرول قائم رکھا جائے۔ اس دھڑے میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کی سخت مخالفت کی جاتی ہے اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ کو اسلامی اقدار کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اخوندزادہ نے قندھار کو طاقت کا مرکز بنا کر سکیورٹی فورسز اور اسلحے کی تقسیم جیسے اہم فیصلے بھی کابل سے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔   
پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین فائر بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا گیا

برطانوی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائر بندی میں 48 گھنٹے کی توسیع پر اتفاق پاگیا۔   

قندھار کا دھڑا ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کا حامی اور کابل میں طالبان کا دوسرا دھڑا ان کا مخالف ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان میں ’’قندھار بمقابلہ کابل ‘‘ کی طاقت کی جنگ بے نقاب ہوگئی ہے، کابل دھڑا تعلیم اور عالمی روابط کا حامی جبکہ قندھار دھڑا سخت گیر مؤقف پر قائم ہے۔

اس کے برعکس کابل میں موجود دھڑا نسبتاً عملیت پسند سمجھا جاتا ہے جس میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا یعقوب اور نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر جیسے طاقتور رہنما شامل ہیں۔

یہ گروہ افغانستان کےلیے خلیجی ریاستوں جیسا ماڈل چاہتا ہے جو اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر فعال ہو اور عالمی برادری سے تعلقات رکھتا ہو۔

ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ تجارت، سفارت کاری اور ریاستی نظم و نسق کے بغیر ملک چلانا ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی اور محدود دائرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت بھی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے اندرونی اختلافات امارت اسلامی کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-15 21:02 GMT+5 , Processed in 0.045385 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list