لاہور ہائی کورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے اس پر عمل کریں، جرمانہ زیادہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس نے بتایا ہے کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے۔
موبائل ایپ اور ویب سائٹ پر کاز لسٹ کی کارروائی براہ راست دیکھی جاسکے گی، ترجمان لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ میں موبائل ایپ اور ویب سائٹ پر مقدمات کی کاز لسٹ کی کارروائی براہ راست دیکھی جاسکے گی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ کم عمر بچے موٹرسائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور والدین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں پر آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کروانے آگئے ہیں۔ قانون معاشرے کو بہتر کرنے کے لیے ہیں، شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔
درخواست گزار آصف شاکر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کررہی ہے، قانون سازی کر کے بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا درست نہیں، عدالت بھاری جرمانوں کے لیے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔