برطانیہ کے شہر پریسٹن میں ہالووین سے قبل سڑکوں پر مٹر گشتی کرتے نظر آنے والے تین بڑے قد کے کتے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد وولف ڈاگز ثابت ہوگئے، جس کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔
یہ تینوں کتے جن کے نام ’لٹل ٹمی‘، ’بو‘ اور ’بروک‘ ہیں، اکتوبر 2025 میں لاوارث پائے گئے تھے، اپنی غیر معمولی جسامت اور بھیڑیے سے مشابہ شکل و صورت کی وجہ سے یہ کتے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
ابتدائی طور پر پریسٹن سٹی کونسل نے انہیں جرمن شیفرڈ نسل سے مشابہ قرار دیا تھا، تاہم بعد میں ایک ریسکیو سینٹر کی جانب سے کیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ نے تصدیق کی کہ یہ تینوں دراصل وولف ڈاگز ہیں۔
ذہین کتے انسانوں کی گفتگو سن کر نئے الفاظ سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: تحقیق
حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے بچوں کی طرح غیر معمولی طور پر ذہین کتے محض انسانوں کی باتیں سن کر نئے الفاظ سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وولوز آف ولٹ شائر نامی غیر ملکی جانوروں کی فلاحی تنظیم کے ٹرسٹی اولی بیرنگٹن نے بتایا کہ جب یہ جانور ملے تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی، وہ شدید کمزور اور غذائی قلت کا شکار تھے، تاہم اب انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وولف ڈاگ ایسی نسل کو کہا جاتا ہے جس میں بھیڑیے کی جینیاتی خصوصیات شامل ہوں، ڈی این اے رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ لٹل ٹمی، بروک اور بو تقریباً 50 فیصد گرے وولف اور 50 فیصد چیکوسلوواکیئن وولچک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے ان کے وولف ڈاگ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔