|
|
— فائل فوٹو
سائنسدانوں نے چاند پر پہلا ہوٹل بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا جو چاند کی سیاحت کو حقیقت بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
امریکا کی گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (جی آر یو) اسپیس نامی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ 2032ء تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کیا جائے گا جہاں قیام کے لیے سیاحوں کو تقریباً 75 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔
کمپنی ترجمان کے مطابق خلائی سیاحوں سے ابتدائی بکنگ کے لیے ساڑھے 7 لاکھ پاؤنڈ بطور ایڈوانس وصول کیے جا رہے ہیں تاہم پہلے مرحلے میں ہوٹل میں صرف 4 مہمانوں کو ٹھہرایا جائے گا جو چاند پر 5 راتیں گزار سکیں گے۔
اس ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجۂ حرارت پر کنٹرول، ہنگامی انخلاء کا سسٹم اور سورج کی شعاعوں سے بچاؤ کے لیے ریڈی ایشن شیلٹر بھی موجود ہوگا۔
کمپنی کے 22 سالہ بانی اسکائلر چان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں انسانیت کو ایک بین السیّاروی مخلوق بنتے دیکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں اربوں لوگ چاند اور مریخ پر زندگی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس منصوبے کو مکمل کرتے ہوئے سب سے بڑا چیلنج خلا میں طویل مدتی قیام کے دوران انسانی تحفظ کو یقینی بنانا ہے جس کے لیے منصوبے کے تحت زمین سے کم سے کم سامان لے جا کر چاند پر زیادہ سے زیادہ رہائشی جگہ بنائی جائے گی۔
کمپنی نے مزید بتایا ہے کہ 2029ء میں ہونے والے پہلے آزمائشی مشن میں ہوٹل کا چھوٹا ماڈل چاند پر بھیجا جائے گا پھر2031ء میں ایک بڑا مشن بھیجا جائے گا، اس دوران چاند کے گہرے گڑھے کے قریب ایک انفلیٹیبل ڈھانچہ نصب کیا جائے گا اور آخری مرحلہ 2032ء میں طے کیا گیا ہے۔
کمپنی نے تمام چاند کی سیاحت کے خواہاں سیاحوں کو متنبہ کیا ہے کہ چاند کی سیاحت کے حتمی ٹکٹ کی قیمت ایک کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ منصوبہ ناسا اور ان نجی خلائی کمپنیوں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے جنہوں نے پہلے ہی زمین کے مدار میں خلائی اسٹیشنز قائم کر رکھے ہیں اور اب وہ چاند پر مستقل انسانی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ |
|