سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام، کھانسی، جسمانی درد اور ناک بند ہونے جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، جس کے لیے اکثر لوگ وِکس کا استعمال کرتے ہیں۔
مارکیٹ میں بچوں اور بڑوں کے لیے مختلف اقسام کی وِکس دستیاب ہیں، تاہم بہت سے افراد کیمیکل فری اور قدرتی گھریلو ٹوٹکوں کو ترجیح دیتے ہیں، وِکس گھر پر بھی چند قدرتی اجزاء کی مدد سے آسانی سے تیار کی جا سکتی ہے۔
گھریلو وِکس بنانے کے لیے کسی خاص مشین یا پیچیدہ سامان کی ضرورت نہیں، ایک کپ خالص دیسی گھی یا ناریل کا تیل لیں اور اس میں پانچ سے چھ کافور کی گولیاں شامل کریں، اس کے علاوہ آدھا چائے کا چمچ ہلدی اور آدھا چائے کا چمچ سمندری نمک شامل کرنے سے اس کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔
تیاری کے لیے ایک پین میں دیسی گھی یا ناریل کا تیل ہلکی آنچ پر گرم کریں، اس میں کافور کی گولیاں ڈالیں اور اس وقت تک پکائیں جب تک وہ مکمل طور پر پگھل نہ جائیں۔
بچوں میں نمونیا کی خطرناک علامات کیا ہیں؟
نمونیا بچوں کے لیے ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے اور دنیا بھر میں اس سے اموات کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔
بعدازاں ہلدی اور سمندری نمک شامل کر کے اچھی طرح مکس کریں، جب تمام اجزاء یکجان ہو جائیں تو چولہا بند کر دیں اور آمیزے کو ٹھنڈا ہونے دیں، ٹھنڈا ہونے کے بعد اسے صاف شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں، یہ کیمیکل فری گھریلو وِکس خاص طور پر بچوں کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
یہ قدرتی وِکس صرف نزلہ اور زکام تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی دیگر فائدے بھی ہیں۔
اگر کان کا درد بلغم جمع ہونے کی وجہ سے ہو تو روئی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر وِکس لگا کر سونے سے پہلے آہستگی سے کان میں رکھیں، اس سے بلغم نرم ہوتا ہے اور درد میں آرام ملتا ہے۔
سونے سے پہلے ہتھیلیوں اور پیروں کے تلوؤں پر وِکس کی مالش کرنے سے جسم کو حرارت ملتی ہے، اعصابی دباؤ کم ہوتا ہے اور سردی کے اثرات میں کمی آتی ہے۔
ناخنوں میں فنگس کی صورت میں متاثرہ ناخن کو تراش کر اس پر وِکس کی ہلکی تہہ لگائیں اور موزے پہن لیں، روزانہ اس عمل کو دہرانے سے فنگس آہستہ آہستہ ختم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
وِکس کو خون کی گردش بہتر بنانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے، جس سے سوجن کم ہو سکتی ہے، متاثرہ جگہ پر ہلکی مالش درد اور سوزش میں آرام دیتی ہے، معمولی کٹ یا زخم پر لگانے سے بیکٹیریا کی افزائش روکنے اور زخم کے جلد بھرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔