|
|
فوٹو: بین الاقوامی میڈیا
شام کی حکومت اور کرد قیادت رکھنے والی تنظیم سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شامی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف دریائے فرات کے مغرب میں موجود علاقوں سے اپنی فورسز واپس بلائے گی اور اس کے جنگجو سیرین فوج (شامی فوج) میں ضم ہو جائیں گے۔
شامی صدر احمد الشرع نے اعلان کیا کہ حکومت تین اہم صوبوں الحسکہ، دیر الزور اور رقہ میں ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالے گی جو اب تک ایس ڈی ایف کے زیرِ انتظام تھے۔ معاہدے کے بعد تمام سرحدی گزرگاہوں، تیل اور گیس کے میدانوں کا کنٹرول بھی دمشق کو منتقل ہو جائے گا۔
معاہدے کے مطابق داعش کے قیدیوں اور کیمپوں کی نگرانی کرنے والا ایس ڈی ایف کا انتظامی ڈھانچہ بھی شامی ریاست میں شامل کر دیا جائے گا جس کے بعد ان کی مکمل قانونی اور سیکیورٹی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
ایس ڈی ایف مرکزی حکومت میں فوجی، سیکیورٹی اور سول عہدوں کے لیے نام بھی تجویز کرے گی۔
یہ اعلان امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیرک سے دمشق میں ملاقات کے بعد کیا گیا۔
امریکی ایلچی نے جنگ بندی کو ایک ’اہم موڑ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری داعش کے خلاف جدوجہد میں مدد دے گی۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا گیا کہ غیر شامی پی کے کے عناصر کو علاقے سے نکال دیا جائے گا تاکہ شام کی خودمختاری اور علاقائی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ |
|