|
|
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود(فائل فوٹو)۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے نئے پائلٹ پراجیکٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکام سیاسی پناہ گزین خاندانوں کو برطانیہ چھوڑنے کیلئے 40 ہزار پاؤنڈ تک کی پیشکش کی جائے گی۔
انھوں نے بائیں بازو کے ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناکام پناہ گزین کے سات دن کے اندر ملک چھوڑنے پر چار افراد تک کی حد تک فی فرد 10 ہزار پاؤنڈ تک کی پیشکش کی جائے گی، جو خاندان یہ ترغیبی پیشکش قبول نہیں کریں گے انھیں زبردستی ملک بدر کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ آزمائشی اسکیم 150 ایسے خاندانوں کو ہدف بنائے گی جو حکومت کی طرف سے فراہم کردہ رہائش گاہوں میں مقیم ہیں، ہوم آفس کا خیال ہے کہ اس اسکیم سے 20 ملین پاؤنڈ تک کی بچت ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں پہلے بھی رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کو تین ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کا پروگرام بھی چل رہا ہے، شبانہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ رضاکارانہ طور پر نہ جانے والے افراد کو اور ان کے خاندان کے افراد کو نکالنے کیلئے حکومت مشاورت بھی کر رہی ہے، انھوں نے کہا ایسے خاندان کافی عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکیں، جس سے برطانیہ آنے والے دیگر خاندانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ریفیوجی اینڈ مائیگرنٹ چلڈرن کنسورشیم نےاپنے ردعمل میں کہا ہے کہ خاندانوں کے زندگی بدل دینے والے فیصلے کیلئے صرف ایک ہفتہ کا وقت دینے پر تشویش ہے، گزشتہ برس سیاسی پناہ کیلئے 82,100 درخواستیں جمع کرائی گئیں جو 100,600 افراد سے متعلق تھیں، پناہ کی 58 فیصد درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا، دسمبر 2025 تک 28,004 افراد رضاکارانہ طور پر واپس گئے، یہ تعداد اس سے گزشتہ برس کی نسبت 5 فیصد زائد تھی۔
شبانہ محمود نے کہا ہے کہ پناہ کے جو متلاشی افراد قانون توڑتے ہیں یا غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رہائش سے نکال دیا جائے گا اور ان کی مالی معاونت بھی ختم کر دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ قواعد میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ صرف وہی افراد جن کے پناہ کے دعوے جائز ہوں گے اور جو قوانین کی پابندی کریں گے صرف انہیں ہی ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسوں سے معاونت دی جائے گی۔
ہوم آفس کے مطابق جون سے نافذ ہونے والے ان اقدامات کے تحت ان پناہ گزینوں کی مالی معاونت اور رہائش ختم کر دی جائے گی جو غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوں، خود کمانے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور کام کرنے کا حق رکھتے ہوں یا قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہوں۔ یورپی یونین کے قانون کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کو معاونت اور رہائش فراہم کرنے کی قانونی ذمہ داری کو ایک مشروط نظام سے بدل دیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ برطانیہ کو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے کم پرکشش بنایا جائے۔
شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم و ستم سے بھاگنے والوں کو پناہ فراہم کرتا رہے گا، لیکن ٹیکس دینے والوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان لوگوں کی زندگیوں کا خرچ اٹھائیں جو نظام کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں یا ہمارے قوانین توڑتے ہیں، اب اسائلم سپورٹ اور رہائش مشروط ہوگی اور صرف انہی کے لیے مخصوص ہوگی جو ہمارے قوانین کی پاسداری کریں گے۔
ہوم آفس کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں اسائلم سپورٹ پر مجموعی طور پر 4 بلین پاؤنڈ خرچ کیے گئے اور دسمبر تک 107,003 افراد اس سے مستفید ہو رہے تھے، جن میں سے 30,657 افراد تقریباً 200 پناہ گزین ہوٹلوں میں مقیم تھے۔
واضح رہے کہ لیبر پارٹی نے عہد کیا ہوا ہے کہ موجودہ پارلیمانی مدت کے اختتام (یعنی 2029 تک یا اس سے پہلے) تک پناہ گزینوں کے لیے ہوٹلوں کا استعمال ختم کر دیا جائے گا۔
شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے کہا ہے کہ لیبر پارٹی کو غیر ملکی مجرموں کو برطانوی سڑکوں پر چھوڑنے کے بجائے انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے واپس بھیجنا چاہیے، اگر لیبر مضبوط مؤقف اختیار کرتی اور تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرتی، تو پناہ کی رہائش کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، سیاسی پناہ کے نئے مجوزہ منصوبوں کے تحت برطانیہ میں پناہ گزینوں کی حیثیت کا ہر 30 ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا تاکہ جن پناہ گزینوں کے ممالک کو محفوظ قرار دیا جائے گا، ان سے توقع کی جائے گی کہ وہ واپس لوٹ جائیں، جبکہ گرین پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت دائیں بازو کی پالیسیاں اپنا رہی ہے۔ |
|