عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی خواتین اور بچیاں ’زندگی اور محفوظ طریقے سے بچوں کی پیدائش کے بنیادی حالات‘ سے محروم ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ، مسلسل نقل مکانی، طبی نظام کی تباہی اور انسانی امداد پر پابندیوں نے خواتین کی صحت، سلامتی اور وقار کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال جنگ کا اتفاقی نتیجہ نہیں بلکہ خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنانے والی ایک دانستہ پالیسی ہے۔
اسرائیل نے پھر غزہ پر بم برسانا شروع کردیے ، 35 فلسطینی شہید
اسرائیل نے اپنے زندہ اور مردہ یرغمالیوں کی حوالگی کے بعد ایک بار پھر غزہ پر بم برسانا شروع کردیے ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق حاملہ خواتین، کینسر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مناسب علاج میسر نہیں جبکہ غزہ کا صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں جن میں مزید 600 سے زائد افراد شہید کیے جا چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے اوچا نے بھی خبردار کیا ہے کہ طبی سامان، ایندھن اور ادویات کی کمی کے باعث غزہ کا صحت کا شعبہ شدید دباؤ میں ہے، روزانہ تقریباً 180 خواتین بچوں کو جنم دے رہی ہیں جبکہ اسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی ہے جس کے باعث سیزیرین آپریشن کے بعد خواتین کو چند گھنٹوں میں ہی ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تقریباً ڈھائی برس میں قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچوں، سانس کی بیماریوں، غذائی قلت اور زچگی کے بعد ذہنی دباؤ کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل باز نہ آیا، غزہ میں حملے جاری، شہادتیں بڑھنے لگیں
غزہ میں اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور جارحیت جاری ہے۔
غزہ سٹی کے ڈاکٹر ناصر بلبول نے ’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بے گھری، ذہنی دباؤ اور غذائی کمی کے باعث خطرناک حمل کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
ایک 22 سالہ فلسطینی خاتون نے بتایا کہ شدید کمزوری کے عالم میں اس کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ پھیپھڑوں کے انفیکشن کا شکار ہے اور انکیوبیٹر میں زیرِ علاج ہے جبکہ وہ خود سمندر کنارے ایک خیمے میں سرد موسم اور نامناسب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری انسانی امداد کی فراہمی اور خواتین و بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔