ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی 2028ء تک عالمی معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
تحقیقی ادارے Citrini Research کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ اے آئی سے کمپنیوں کے منافع اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اضافہ ہو گا مگر اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری بھی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
’دی 2028ء گلوبل انٹیلیجنس کرائسز‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کو تجزیہ کار الفا شاہ نے تیار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب اور 2026 کا انسان
چند کمپنیوں اور تحقیقی مراکز نے ایسی چِپس اور نیم جرّاحی آلات کی طرف قدم بڑھایا ہے، جو انسان کے خیالات، ارادے اور حرکات پڑھنے اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے منظر نامے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں اے آئی وائٹ کالر ملازمتیں سنبھال لے گی جن میں کوڈنگ، مالی تجزیہ اور کسٹمر سپورٹ شامل ہیں، اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔
تحقیق کے مطابق بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ انڈیکس 500 اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 40 فیصد گر سکتا ہے۔
رپورٹ میں ’گھوسٹ جی ڈی پی‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے جس کے تحت پیداوار تو بڑھے گی مگر آمدنی کا بڑا حصہ سرمایہ داروں کو جائے گا، عام صارفین کو نہیں ملے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں جہاں صارفین کا خرچ جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد ہے، وہاں یہ عدم توازن شدید معاشی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے عالمی تجارت میں 40 فیصد تک اضافہ ممکن ہے، ڈبلیو ٹی او
مزید کہا گیا ہے کہ نجی کریڈٹ مارکیٹس، خاص طور پر سافٹ ویئر کمپنیوں سے منسلک قرضے اور 13 ٹریلین ڈالرز کی امریکی مارگیج مارکیٹ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مسئلہ ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ اس کی کامیابی ہے اور اگر حکومتیں ٹیکس اور معاشی ڈھانچوں کو بر وقت تبدیل نہ کر سکیں تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔