Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 456|Reply: 0

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی، پروین شاکر کی 73 ویں سالگرہ آج

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194281
Post time 2025-11-25 00:15:11 | Show all posts |Read mode




  پروین شاکر: فائل فوٹو  

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے مداح آج ان کی 73ویں سالگرہ منارہے ہیں، اپنے پہلے مجموعے کی مناسبت سے ہی پروین شاکر خوشبو کی شاعرہ کہلاتی ہیں۔

24 نومبر 1952ء کو پروین شاکر کراچی کے ایک اسپتال میں افضل النساء اور سید ثاقب حسین زیدی کے ہاں  پیدا ہوئی تھیں۔

پروین شاکر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ،بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے انگلش لٹریچر میں بی اے آنرز کیا۔  

1972ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا، پھر وہیں سے لسانیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔   
خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کی 68ویں سالگرہ

محبت اور خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کی آج 68ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔   

اس کے بعد پی ایچ ڈی کے لیے ’جنگ میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘ پر مقالہ لکھا، جسے وہ پیش نہ کرسکیں کیونکہ اسی دوران وہ ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے وابستہ ہو گئیں، جہاں سے انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔  

تعلیمی سلسلہ ختم ہوا تو انھوں نے عبداللّٰہ گرلز کالج کراچی میں انگریزی لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی۔ 9 برس تک وہ درس و تدریس کی خدمات انجام دیتی رہیں۔ اس کے بعد سول سروسز یعنی سی ایس ایس کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئیں۔   
’’پروین شاکر‘‘ ان کی خوشبو آج بھی مہک رہی ہے

24سال کی عمر میں کوئی شاعری کی دنیا میں داخل ہو...   

کامیاب ہونے کے بعد محکمہ کسٹمز میں کلکٹر ہو گئیں۔ اس عہدے سے ترقی کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری اور پھر سی۔ آر۔ بی۔آر اسلام آباد میں مقرر ہوئیں۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

پروین شاکر کی شاعری خو شبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بسی ہوئی ہے ۔ ان کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ کو 1976 میں آدم جی ایوارڈ اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔

؎اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی نذر سیلاب ہوگئی شاید

تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں یاد، مہتاب ہوگئی شاید

پروین شاکر کی شاعری آج کے عہد کی شاعری ہے ۔انہوں نے شاعری میں مختلف تجربات کئے ہیں جس میں وہ کامیاب بھی رہی ہیں ۔مختلف زبانیں جاننے کے باوجو د انہوں نے نہایت آسان اور سہل زبان میں شاعری کی۔

؎کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

تیری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں

مرا تن، مور بن کے ناچتا ہے

ہاں انکی شاعری میں مختلف زبان کی تراکیب اور اور الفاظ کا استعمال ضرور ہوا ہے ۔ اپنی مختصر زندگی کے نہایت قلیل وقت میں وہ شاعری کا ایک ایسا خزانہ چھوڑ گئیں جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی سرمائے سے کم نہیں۔   
خوشبو کی شاعرہ: پروین شاکر

پروین شاکر کی شاعری خو شبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں...   

ان کے پانچ شعری مجموعے خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور کف آئینہ ہیں ۔جب کہ کلیات ’’ماہ تمام‘‘ کے نام سے شائع ہوا، جس تخیل پردازی کا نظارہ ان کی شاعری میں نظر آتا ہے وہ انکی ہمعصر اور دوسرے شعراء میں بہت کم دیکھنے میں آتا ہے جس بنا پر وہ دوسروں سے منفرد نظر آتی ہیں ۔

پروین شاکر کی شاعری عشق کے مختلف اور منفرد کیفیت کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ عشق اور محبت کی شاعرہ تھیں۔ ان کی مقبولیت ان کے پہلے شعری مجموعے “خو شبو “ سے ہوئی۔ عشقیہ شاعری کی جو خوشبو انہوں نے بکھیری تھی وہ آج تک لوگوں کی دل دماغ میں بسی ہوئی ہے۔

دسمبر 1994 کو اُردو ادب کو مہکانے اور ادبی محفلوں میں شعر کی خوشبو بکھیرنے والی پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں موت کی وادی میں چلی گئیں مگر اپنے خوبصورت اشعار کے ذریعے وہ چمن اردو میں ہمیشہ مہکتی رہیں گی۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 18:31 GMT+5 , Processed in 0.049619 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list