Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 331|Reply: 0

2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز، شیری رحمان کا اظہار تشویش

[Copy link]

510K

Threads

0

Posts

1710K

Credits

论坛元老

Credits
178057
Post time 3 day(s) ago | Show all posts |Read mode
  شیری رحمان : فائل فوٹو  

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے 2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ اوسطاً 67 اغوا، 19 ریپ، 6 گھریلو تشدد اور 2 غیرت کے نام پر قتل رپورٹ ہو رہے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پنجاب میں 4,641 زیادتی کے کیسز میں صرف 0.4 فیصد کیسز میں سزا ملی، خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر 134 قتل کے واقعات میں صرف 2 سزائیں ہوئیں، سندھ میں غیرت کےنام پر قتل کے 134، زیادتی کے 243، گھریلو تشدد کے375 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔

بلوچستان میں زیادتی کے 21 اور اغوا کے 185 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، ناقص تفتیش، کمزور پراسیکیوشن اور ادارہ جاتی خلا مجرموں کو کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔   
سیلابی ریلے میں 70 افراد 7 مختلف مقامات پر پھنس گئے، 52 کو بچا لیا گیا: شیری رحمٰن

شیری رحمان نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے دو دن قبل شمالی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیا تھا،   

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں غیرت کے نام پر قتل کے 22 کیسز میں کوئی سزا نہ ہو سکی، ملک بھر میں 480 جی بی وی کورٹس کے باوجود 21,891 بیک لاگ 2023 کے آغاز میں موجود تھا۔

شیری رحمان نے کہا کہ سال 2023 میں 48,395 نئے کیسز دائر اور 30,631 نمٹائے گئے، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، انسانی حقوق واچ کے مطابق 70 فیصد صنفی تشدد کے کیسز خوف اور بدنامی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ایک پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا جہاں قتل کرنے والے ملزم کو ہار پہنائے جا رہے تھے، اس حوالے سے 2004 سے قانون سازی ہو رہی ہے لیکن متاثرین کو انصاف نہیں مل رہا۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2025-11-30 18:24 GMT+5 , Processed in 0.048375 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list